ایرانی بحری اڈوں پر حملے، اسرائیل نے بن گوریون ایئرپورٹ خالی کروا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جنگ کے 24ویں دن صوبہ سیستان و بلوچستان میں ایرانی بحریہ کے اسلحہ گوداموں کو متعدد فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق آج پیر کو کنرک میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہ ایرانی بحریہ کے اسلحہ ذخائر اور اڈے تھے۔ اس دوران ایسی تصاویر بھی سامنے آئیں ،جن میں کم بلندی پر پرواز کرنے والے جنگی طیارے دکھائے گئے، جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ امریکی تھے۔

رپورٹس کے مطابق تہران میں ایک چیک پوسٹ پر حملے میں بسیج کے رہنما محمد علی عطاریہ ہلاک ہو گئے، جبکہ دارالحکومت کے جنوب مشرقی علاقے میں بھی ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا، جہاں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ادھر اسرائیل نے بھی تہران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ عینی شاہدین اور مقامی افراد کے مطابق شدید فضائی حملوں کے بعد دارالحکومت کے وسیع علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔

اسرائیلی حملوں میں وزارت دفاع کے ماتحت الیکٹرانک انڈسٹریز کی عمارت جو صیاد شیرازی ہائی وے پر واقع ہے، کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں آگ بھڑک اٹھی۔

تہران کے مشرقی، مغربی اور شمالی علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔

دوسری جانب شمال مغربی شہر تبریز میں ایک فضائی حملے میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ دو دھماکوں اور جنگی طیاروں کی پرواز کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

بن گوریون ایئرپورٹ

اسرائیل میں تل ابیب کے جنوب مشرق میں واقع بن گوریون ایئرپورٹ پر سائرن بجنے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد حکام نے مسافروں کو وہاں سے نکال لیا، جیسا کہ اسرائیلی میڈیا نے بتایا۔

اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ کے مطابق مغربی نقب اشدود ،جنوبی تل ابیب، عسقلان اور غزہ کے اطراف میں بھی خطرے کے سائرن بجائے گئے۔اسی طرح وسطی اور جنوبی اسرائیل، تل ابیب، یروشلم اور بحیرہ مردار کے علاقوں میں بھی سائرن کی آوازیں سنی گئیں۔یہ میدانِ جنگ میں شدت اس وقت سامنے آئی جب چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج نے تہران میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

یہ پیش رفت اس کے بعد ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شام ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہ کھولی تو ایرانی بجلی گھروں کو "مٹا" دیا جائے گا۔

ٹرمپ نے اس کے لیے پیر کے روز شام45: 7بجے (مشرقی امریکی وقت) کی حتمی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔یاد رہے کہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد تہران ایک جانب اور تل ابیب و واشنگٹن دوسری جانب سے مسلسل دھمکیوں کا تبادلہ جاری ہے۔ اب تک دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اس تنازع نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا، دنیا بھر میں مہنگائی کے خدشات بڑھائے اور مغربی اتحادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں