مصری ٹی وی پر غزہ جنگ پر مبنی ڈرامہ، فلسطینیوں کی تعریف سے زیادہ تنقید
یہ ڈرامہ "ہم فلسطینیوں کے لئے نہیں ہے": ناظرین میں سے ایک کی رائے
جب حقیقی دھماکوں سے غزہ کی پٹی لرز رہی تھی تو مصر کے گھروں میں ایک فرضی کہانی ٹی وی کے پرائم ٹائم میں پیش کی جا رہی تھی – جس پر فلسطینیوں نے تعریف سے زیادہ تنقید کی جو بدستور بموں اور حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
ملبے کا ڈھیر بنی عمارات، میدانِ جنگ بن جانے والے ہسپتال اور کواڈ کاپٹرز کی مسلسل گونج: ٹی وی سیریز "صحاب الارض" کے تخلیق کاروں نے ایک وسیع ڈیزائن کے ساتھ فلسطینی سرزمین پر جنگ کا منظر دوبارہ تخلیق کیا۔
لیکن حقیقی زندگی کے کھنڈرات میں رہنے والے فلسطینیوں کے لیے تفریح اور افسانے کے درمیان کی لکیر خوفناک طور پر دھندلی تھی۔
"ایک اداکار کو پلاسٹک کی ڈمی پر روتے ہوئے دیکھنا جبکہ مجھے اپنی بہن کو اپنے برہنہ ہاتھوں سے دفن کرنا پڑا، یہ میری برداشت سے کہیں زیادہ ہے،" اکیس سالہ یاسر النجاّر نے کہا جو اصل میں شمالی غزہ کے رہائشی ہیں لیکن اب وہ جنوبی شہر رفح میں ایک خیمے میں رہ رہے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک علاقے میں 71,000 سے زیادہ لوگ جاں بحق چکے ہیں۔
یہ ٹی وی شو ایک مصری ڈاکٹر (منہ الشلبی) اور ایک فلسطینی باپ (ایاد نصار) کی کہانی بیان کرتا ہے جو اپنے بچوں سے الگ ہو گیا ہے۔ یہ ہسپتالوں پر بمباری سمیت مختلف ہولناکیوں کا سامنا کرتے ہیں۔
دس بار بے گھر ہونے والی ایک 30 سالہ ماں بیسان سیف نے اے ایف پی کو بتایا: "جب آپ کسی اتنے خوفناک تجربے سے گذرتے ہیں تو آپ اسے ٹی وی پر نہیں دیکھنا چاہتے۔"
انگریزی سب ٹائٹلز کے ساتھ نشر کردہ پندرہ اقساط پر مشتمل ڈرامے کے بارے میں حاتم ابو ارمانہ کہا، یہ "ہم فلسطینیوں کے لئے نہیں ہے۔" انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ تر اقساط دیکھیں۔ وہ اعضاء سے محروم افراد کی فٹ بال ٹیم کی فلسطینی قومی کمیٹی کے رکن ہیں۔
"دھماکوں کی آوازیں اور جنگ کی بو پہلے ہی ہمارے سینے میں بسی ہے۔ لیکن دنیا کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا اور ہم کس تکلیف سے گذرے ہیں،" انہوں نے اے ایف پی کو بتایا۔
سوشل میڈیا پر مقامی صحافیوں اور باقاعدہ فلسطینیوں دونوں نے غزہ جنگ کو وسیع پیمانے پر ایک منفرد "لائیو سٹریم" تنازعہ قرار دیا ہے۔
"لیکن ہم سرخیوں کے پسِ پردہ وہ انسانی عنصر دکھانا چاہتے تھے جسے خبریں پیش نہیں کر سکتیں،" اردنی سٹار ایاد نصار نے امریکی ٹی وی شو انٹرٹینمنٹ ٹونائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا۔
- 'خون خشک ہونے سے پہلے' -
مصری انٹیلی جنس سے منسلک ایک میڈیا گروپ یونائیٹڈ میڈیا سروسز نے یہ سیریز پیش کی ہے جبکہ اس کے ہدایت کار پیٹر میمی ہیں جنہوں نے قبل ازیں
تین سیزن والے ڈرامہ "الاختیار" کی ہدایات دی تھیں۔ یہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی 2013 میں اخوان المسلمین کی بے دخلی کی ڈرامائی تشکیل تھا۔
حسبِ توقع ان کے حالیہ ترین کام پر مصر کا سیاسی ایجنڈے پیش کرنے کا الزام لگایا گیا جس سے بعض لوگ کے بقول غزہ پر اسرائیل کے محاصرے میں قاہرہ کی شراکت کا عنصر دھندلا گیا۔
اس سیریز میں اسرائیل کو مصر اور غزہ کے درمیان رفح راہداری سے زندگی بچانے والے طبی سامان کے داخلے سے انکار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ راہداری پر اسرائیل نے گذشتہ مئی میں قبضہ کر کے زبردستی بند کر دیا تھا۔
اسرائیلی فوج کی عربی زبان کی ترجمان ایلا واویۃ نے فوری طور پر اس پروڈکشن پر تنقید کی جو ان کے نزدیک "برین واشنگ" اور "حقائق کو غلط رنگ دینا" تھا۔
ایک منظر میں ایک مصری ٹرک ڈرائیور جسے امداد پہنچانے سے روک دیا جاتا ہے، اسرائیلیوں کو ڈھکے چھپے الفاظ میں گالیاں دیتا ہے۔ اس منظر کو سوشل میڈیا پر عرب یکجہتی کی نامرد ریاست کی علامت کے طور پر لیا گیا۔
یہ سیریز رمضان کے دوران ٹی وی اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ایک ایسے وقت میں نشر ہوئی ہے جب عربوں میں اس بات پر خاصی مایوسی پھیلی ہوئی ہے کہ فلسطینی کاز کا علمبردار بننے کی ایک طویل تاریخ کے باوجود وہ قتل و غارت روکنے میں ناکام رہے۔
بعض لوگوں کے نزدیک یہ پوری کوشش ہی عجیب ہے۔
ایک ایکس صارف نے اس پر "جاری نسل کشی کو خون خشک ہونے سے بھی پہلے تفریح میں تبدیل کرنے" کا الزام لگایا۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی فائرنگ سے اب تک کم از کم 677 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
-
مصر : والد کی اطلاع پر کم عمر بچی کی شادی کی کوشش ناکام بنا دی گئی
پراسیکیوٹر جنرل نے بچی کو اس کے خاندان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ساتھ ہی ...
مشرق وسطی -
ہسپانوی وزیرِ اعظم: اسرائیل لبنان کو بھی 'غزہ جیسی تباہی' سے دوچار کرنا چاہتا ہے
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو لبنان کو "اسی نقصان اور تباہی سے دوچار کرنے کی ...
بين الاقوامى -
غزہ میں اسرائیلی اشتعال انگیزی کا مقصد جنگ بندی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے:حماس
فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے کی شدید مذمت کرتے ...
بين الاقوامى