لبنانی فوج نے بنت جبیل ضلع کی سرحدی بستیوں رمیش اور عین ابل میں اپنے مراکز خالی کر دیے ہیں۔ یہ اقدام جنوبی لبنان کی گہرائی میں اسرائیلی پیش قدمی کے نتیجے میں متوقع تھا۔ انخلا کے ساتھ ہی سرحدی دیہات کے باسیوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، کیونکہ اس کے سنگین حفاظتی اور انسانی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
اس حوالے سے ایک عسکری ذریعے نے بدھ کو العربیہ ڈاٹ نیٹ/الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ان مقامات کا انخلا اسرائیلی افواج کی پیش قدمی کے باعث "نا گزیر" ہو گیا تھا۔ ذریعے کا کہنا تھا "ہمارے فوجی پیچھے عسکری مراکز میں نہیں رہ سکتے جبکہ اسرائیلی افواج جغرافیائی طور پر آگے بڑھ رہی ہوں۔"
رميش، متل كتير من ضيع الجنوب، أهلها متمسكين بأرضهم ورافضين يفلّوا…، مين بيحميهم…#لبنان #كارول_سماحة pic.twitter.com/9a2Ne2anph
— Carole Samaha (@CAROLE_SAMAHA) March 31, 2026
عسکری ذریعے نے وضاحت کی کہ دریائے لیطانی کے جنوبی علاقے میں اب بھی فوج کے تین بریگیڈ موجود ہیں، جبکہ دیگر بریگیڈز کو سکیورٹی حالات کے باعث لیطانی سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
رمیش کے میئر حنا العمیل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ مقامی لوگ چاہتے تھے کہ فوج ان مراکز کو خالی نہ کرے کیونکہ وہ ریاست اور قانون کی علامت ہے، تاہم ہمیں پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ اسرائیلی پیش قدمی کی صورت میں فوج ان مقامات پر نہیں رہ سکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج ابھی رمیش میں داخل نہیں ہوئی بلکہ اس کے گردونواح میں موجود ہے۔ العمیل نے یونیفیل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنانی فوج کے عارضی متبادل کے طور پر قصبے میں تعینات ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ چھ ہزار کے قریب باسی اپنی سرزمین چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔
الله يحميكن🙏 pic.twitter.com/JmqyVsvtFr
— Elissa (@elissakh) March 31, 2026
عین ابل کے میئر ایوب خریش نے بھی کہا کہ وہ اپنی زمین سے وابستہ ہیں اور مشکلات کے باوجود اسے نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ فوج کے انخلا کے بعد اب اپنے قصبے کی حفاظت ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یونیفیل سے رابطہ کیا تھا لیکن انہیں بتایا گیا کہ بین الاقوامی افواج کو اپنے مراکز نہ چھوڑنے کی ہدایات ملی ہیں۔
فوج کے انخلا کا یہ سلسلہ صرف رمیش اور عین ابل تک محدود نہیں رہا بلکہ بنت جبیل کے دیگر علاقوں برعشیت، الطیری اور بیت یاحون کے مراکز بھی خالی کر دیے گئے ہیں۔ لبنان پر اسرائیلی جنگ کو ایک ماہ مکمل ہونے پر بے گھر افراد کی تعداد 10 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن کے لیے ملک بھر میں 600 سے زائد مراکز قائم کیے گئے ہیں۔