جنوبی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات کے ساتھ ایران کی طرف سے بڑی تعداد میں میزائل داغے جانے کی خبریں بھی آ رہی ہیں، کیونکہ ایران سے اسرائیلی علاقوں کی جانب داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایرانی ٹیلی ویژن نے ذکر کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب میزائلوں کا ایک نیا دستہ روانہ کیا گیا ہے اور اسی دوران تل ابیب اور ملک کے وسطی حصوں کے کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن گونج اٹھے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ میزائل گرنے سے بنی براک شہر میں ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور تل ابیب کے اندرونی علاقوں میں کلسٹر میزائل کا ملبہ گرنے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
لقطات متداولة لدمار في بني براك وسط إسرائيل جراء صواريخ إيرانية.. وإعلام إسرائيلي يفيد بسقوط شظايا صاروخ عنقودي في 11 موقعا بتل أبيب
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) April 1, 2026
قناة العربية pic.twitter.com/PZZHaWDYBt
تل ابیب میں میزائلوں کا ملبہ
دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے تل ابیب میں میزائلوں کا ملبہ گرنے کی شکایات موصول ہونے کا اعلان کیا ہے جبکہ رپورٹوں میں وسطی اور شمالی اسرائیل کی جانب ایران اور حزب اللہ کے مشترکہ حملے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تل ابیب کے اندر 11 مقامات پر کلسٹر میزائل کا ملبہ گرا ہے جس سے مالی نقصان ہوا ہے جن میں بنی براک میں پانی کا نیٹ ورک متاثر ہونا بھی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق ملبہ گرنے کے نتیجے میں بنی براک میں 5 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ گردش کرنے والی ویڈیوز میں بمباری کے نتیجے میں بعض عمارتوں میں ہونے والی تباہی کو دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی میڈیا نے ایرانی میزائلوں کی آمد کے بعد یروشلم میں بھی دھماکے کی اطلاع دی ہے۔
لقطات متداولة لدمار في بني براك وسط إسرائيل جراء صواريخ إيرانية.. وإعلام إسرائيلي يفيد بسقوط شظايا صاروخ عنقودي في 11 موقعا بتل أبيب
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) April 1, 2026
قناة العربية pic.twitter.com/PZZHaWDYBt
جنگ بندی کی کوششیں
یہ میدانی تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی کوششیں جاری ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے نئے سربراہ نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز بدھ کو اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایران کے نئے صدر، جو اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں بہت کم انتہا پسند اور کہیں زیادہ سمارٹ ہیں، انہوں نے ابھی ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے!۔
تاہم امریکی صدر کی جانب سے اس سے قبل اس بات کی تصدیق کے باوجود کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے جا رہے ہیں، ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیکزاد نے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کی ہے۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل تہران کو کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 6 اپریل سنہ 2026ء تک کی مہلت دی تھی، لیکن انہوں نے منگل کے روز دوبارہ اشارہ دیا کہ وہ کسی معاہدے کے بغیر بھی جنگ ختم کر کے یہاں سے نکل سکتے ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کا مطلب لازمی طور پر حملوں کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔