ٹرمپ کے خطاب کے فوری بعد اسرائیل ایرانی میزائل حملہ روکنے میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام آج جمعرات کو ایرانی میزائل حملے کا مقابلہ کر رہا ہے۔ یہ حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بارے میں قوم سے خطاب کے کچھ ہی دیر بعد کیا گیا۔

فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صرف تین گھنٹے کے دوران تیسری بار ایران سے اسرائیلی علاقوں کی جانب داغے گئے میزائلوں کا سراغ لگایا گیا ہے، مزید یہ کہ دفاعی نظام خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ہوم فرنٹ کمانڈ کے مطابق شمالی اسرائیل کے تمام علاقوں میں سائرن بج اٹھے، تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اس سے قبل العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے جنوبی اسرائیل میں سائرن بجنے اور ایران سے اسرائیلی علاقوں کی جانب داغے گئے میزائلوں کی نشان دہی کی اطلاع دی تھی، جبکہ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان میزائلوں کو روکنے پر کام کر رہی ہے۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق اسرائیل کی جانب میزائلوں کی نئی کھیپ داغی گئی ہے، جس کے ساتھ ہی تل ابیب اور ملک کے وسطی حصوں کے متعدد علاقوں میں سائرن بجنے لگے۔

اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی کہ میزائل گرنے کے نتیجے میں بنی براک شہر میں ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہے، اور تل ابیب کے اندرونی علاقوں میں کلسٹر میزائل کے ٹکڑے گرنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے تل ابیب میں میزائلوں کا ملبہ گرنے کی اطلاعات موصول ہونے کا اعلان کیا، جبکہ رپورٹس میں وسطی اور شمالی اسرائیل کی جانب ایران اور حزب اللہ کے مشترکہ حملے کا بتایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تل ابیب کے اندر 11 مقامات پر کلسٹر میزائل کے ٹکڑے گرے جس سے مالی نقصان ہوا، اس دوران بنی براک میں پانی کا نیٹ ورک متاثر ہوا۔

رپورٹس کے مطابق ملبہ گرنے کے نتیجے میں بنی براک میں 5 افراد زخمی ہوئے، جبکہ گردش کرنے والی وڈیوز میں بمباری کے نتیجے میں کچھ عمارتوں میں تباہی دکھائی گئی ہے۔

مزید برآں اسرائیلی میڈیا نے ایرانی میزائلوں کی فائرنگ کے بعد بیت المقدس میں دھماکے کی آواز سنائی دینے کی اطلاع دی ہے۔

یہ میدانی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ روکنے کے لیے سیاسی کوششیں جاری ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے نئے صدر نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔

ٹرمپ نے گذشتہ روز بدھ کو اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ "ایران میں حکومت کے نئے سربراہ، جو اپنے پیشروؤں سے کہیں کم انتہا پسند اور کہیں زیادہ ہوشیار ہیں، نے ابھی امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے!"

تاہم امریکی صدر کی جانب سے اس سے قبل اس بات کی تصدیق کے باوجود کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے طریقے سے چل رہے ہیں، ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیک زاد نے مذاکرات کے ہونے کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے چند روز قبل تہران کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے رواں ماہ 6 اپریل تک کی مہلت دی تھی، تاہم انہوں نے منگل کو دوبارہ اشارہ دیا کہ وہ جنگ ختم کر سکتے ہیں اور معاہدے کے بغیر بھی "باہر نکل" سکتے ہیں۔

اسی دوران انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ حملے ختم ہو جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں