جنگ کے دوران 5 چینی جہازوں نے ایران کو میزائل ایندھن منتقل کیا : ٹیلیگراف

ان جہازوں پر سوڈیم پرکلوریٹ لدا ہوا تھا، جو میزائل ایندھن تیار کرنے کا بنیادی مادہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شپنگ ڈیٹا کے تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ بڑے پیمانے پر فوجی حملوں کے باوجود چین ایران کو بیلسٹک میزائلوں کے ایندھن کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیائی مواد کی بڑی مقدار فراہم کر رہا ہے۔

برطانوی اخبار "ٹیلیگراف" کی جانب سے شائع کردہ تجزیے کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں موجود چار ایرانی بحری جہاز تہران کی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوئے، جبکہ پانچواں جہاز ساحل کے قریب موجود تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان جہازوں کے ذریعے 'سوڈیم پرکلوریٹ' منتقل کیا جا رہا ہے، جو بیلسٹک میزائلوں کے ٹھوس ایندھن کی تیاری کے لیے بنیادی خام مال ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ جہاز چین کے شہر ژوہائی کی گاولان بندرگاہ سے روانہ ہوئے، جہاں کیمیائی مادوں کے ذخیرہ کرنے کے سب سے بڑے ٹرمینلز موجود ہیں۔ تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ لائی گئی مقدار سیکڑوں بیلسٹک میزائل تیار کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ پانچوں جہاز ایرانی شپنگ لائنز کے بیڑے کا حصہ ہیں جو امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں سے "ہامونا" نامی جہاز جنگ شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل روانہ ہوا اور 26 مارچ کو بندر عباس پہنچا۔ دیگر جہازوں میں بارزین، شبدیس، اور رائن شامل ہیں، جبکہ "زاردیس" 2 اپریل کو پہنچنے والا تھا۔

ماہرین کا تخمینہ ہے کہ یہ حالیہ کھیپ 2025 کے اوائل میں آنے والی ترسیلات سے کہیں زیادہ ہے، جس سے ایران مزید تقریباً 785 میزائل تیار کر سکتا ہے۔ دفاعی مبصرین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ تہران ایک ماہ تک روزانہ 10 سے 30 میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے سابق عہدے دار میاد مالکی کا کہنا ہے کہ یہ ترسیلات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ایران میزائل ایندھن کی شدید کمی کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ اسلحہ سازی کے ماہر پروفیسر جیفری لیوس کے مطابق، یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مسلسل بمباری کے باوجود ایران کی میزائل سازی کی صلاحیت برقرار ہے۔

کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے فیلو اسحاق کارڈون نے چین کی اس پالیسی کو "مسلسل تعاون" قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اس حقیقت کا فائدہ اٹھا رہا ہے کہ یہ تیار اسلحہ نہیں بلکہ تجارتی سامان ہے، جس سے وہ عالمی سطح پر تردید بھی کر سکتا ہے اور ایرانی حکومت کی خاموش حمایت بھی۔ یہ طریقہ کار روس کی جنگی پیداوار کے لیے چینی تعاون سے مشابہت رکھتا ہے۔ تجزیے کے مطابق، اگرچہ ٹریکنگ سسٹم بند کر کے ان جہازوں کی نگرانی مشکل بنائی گئی، لیکن یہ واضح ہے کہ چین سمندری راستے اور مستقبل میں ممکنہ طور پر پاکستان کے زمینی راستے سے ایران کو خام مال کی فراہمی میں سہولت دے رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size