ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان پانچ ہفتوں سے جاری جنگ کے دوران سیٹلائٹ امیجز فراہم کرنے والی کمپنی ''پلینٹ لیبز'' نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران اور مشرق وسطیٰ میں تنازعہ والے علاقے کی تصاویر کی اشاعت غیر معینہ مدت تک روک دے گی۔
پلینٹ لیبز جو کیلیفورنیا میں واقع ہے، نے یہ فیصلہ اپنے صارفین کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا۔ کمپنی نے بتایا کہ امریکی حکومت نے تمام سیٹلائٹ فوٹیج فراہم کرنے والوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تنازعہ والے علاقے کی تصاویر کو غیر معینہ مدت تک شائع نہ کریں، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔
کمپنی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ 9 مارچ سے متعلق تصاویر کی اشاعت روک دے گی اور توقع ظاہر کی کہ یہ پالیسی تنازعہ ختم ہونے تک برقرار رہے گی۔
قابلِ نگرانی یا محدود تقسیمِ تصاویر
کمپنی نے اپنے صارفین کو بھیجی گئی ای میل میں واضح کیا کہ اب وہ ایک نظام اپنائے گی جسے قابلِ نگرانی تقسیمِ تصاویر کہا جا رہا ہے، جس کے تحت وہ صرف وہی تصاویر شائع کرے گی جو سلامتی کے لیے خطرہ نہیں بنیں۔
نظام کے تحت ہر تصویر یا معاملے کو علیحدہ طور پر جانچ کر شائع کیا جائے گا تاکہ فوری اور ضروری ضروریات یا عوامی مفاد کی تکمیل ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب ''وینچر ''نامی کمپنی جو تجارتی مقاصد کے لیے تصاویر فراہم کرتی ہے اور پہلے '' میکسار ٹیکنالوجیز'' کے نام سے جانی جاتی تھی، نے کہا کہ امریکی حکومت نے اس سے رابطہ نہیں کیا۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق ''وینچر'' برسوں سے جغرافیائی سیاسی تنازعات کے دوران تصاویر تک رسائی پر سخت کنٹرول نافذ کرنے کا حق رکھتی ہے اور اس وقت مشرق وسطیٰ کے کچھ علاقوں میں یہ کنٹرول نافذ کر رہی ہے۔ان کنٹرولز میں یہ شامل ہو سکتا ہے کہ کون نئی تصاویر طلب کر سکتا ہے یا موجودہ تصاویر خرید سکتا ہے، خاص طور پر وہ علاقے جہاں امریکی فوج اور اس کے اتحادی سرگرم ہیں یا جہاں دشمن سرگرمی سے ہدف بنا رہے ہیں۔
ایک اور کمپنی ''بلیک اسکائی ٹیکنالوجی'' نے اس حوالے سے ابھی کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
اس سے قبل ''پلینٹ لیبز'' نے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کی تصاویر کی اشاعت 14 دن کے لیے مؤخر کرے گی تاکہ دشمن ان کا استعمال امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملہ کرنے کے لیے نہ کر سکیں۔
پلینٹ لیبز کے پاس زمین کی تصاویر لینے والے متعدد سیٹلائٹس کا بیڑا ہے اور وہ مسلسل تازہ تصاویر حکومتوں، کمپنیوں اور میڈیا کو فروخت کرتی رہتی ہے۔
پابندی کی اہمیت
سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے فوجی استعمال میں اہداف کا تعین، ہتھیاروں کی رہنمائی، میزائلوں کی نگرانی اور مواصلات شامل ہیں۔
اسی طرح سیٹلائٹ تصاویر صحافیوں اور محققین کے لیے بھی مددگار ہیں جو ان جگہوں کا مطالعہ کرتے ہیں جو پہنچنے میں دشوار ہیں یا براہِ راست نگرانی ممکن نہیں۔
کچھ ماہرین فلکیات نے خبردار کیا ہے کہ تجارتی مقاصد کے لیے لی گئی تصاویر ایران کے ہاتھ میں بھی جا سکتی ہیں، بشمول ایسی تصاویر جو امریکہ کے دشمن آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔