عمانی وزارت خارجہ نے اپنے سرکاری ''ایکس ''اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا: وزارت خارجہ سلطنت عمان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتی ہے اور اس ضمن میں پاکستان کی کوششوں اور تمام فریقین کی کوششوں کو سراہتی ہے، جو جنگ بندی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
بیان میں سلطنت عمان کی جانب سے اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اب کوششیں تیز کی جائیں تاکہ بحران کا مستقل حل تلاش کیا جا سکے اور علاقے میں جنگ اور دشمنی کی کارروائیوں کا دائمی خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
#بيـان | تعرب وزارة الخارجية عن ترحيب سلطنة عُمان بإعلان وقف اطلاق النار بين الجمهورية الإسلامية الإيرانية والولايات المتحدة الأمريكية، وتُثمن الجهود التي بذلتها جمهورية باكستان الإسلامية في هذا الإطار وكافة الأطراف الداعية لوقف الحرب.
— وزارة الخارجية (@FMofOman) April 8, 2026
وتؤكد سلطنة عُمان على أهمية تكثيف الجهود… pic.twitter.com/vXxpYL5lJY
صدر امریکی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی منظوری دی، یہ اس سے دو گھنٹے پہلے ہوا جب ایران کو ہرمز کی تنگ گزرگاہ دوبارہ کھولنے یا اپنی بنیادی شہری انفراسٹرکچر پر وسیع پیمانے پر حملے کے لیے آخری مہلت دی گئی تھی۔
ٹرمپ کا یہ اعلان جو انہوں نے سوشل میڈیا پر کیا، دن کے ابتدائی موقف سے اچانک مختلف تھا، جب انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ''ایک پوری تہذیب آج رات فنا ہو جائے گی'' اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف جنہوں نے جنگ بندی کے مذاکرات میں مدد کی، نے ''ایکس ''پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے ایرانی اور امریکی وفود کو جمعہ کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی دعوت دی۔