ہم نے 40 روز میں تہران کی 40 سال میں تیار کردہ فوج تباہ کر دی : سربراہ امریکی سینٹکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان عارضی جنگ بندی کے دوسرے روز میں داخل ہونے کے ساتھ ہی، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اعلان کیا ہے کہ تہران کو اس کی میزائل، بحری اور فضائی صلاحیتوں اور دفاعی صنعتی ڈھانچے کی تباہی کے بعد "تاریخی فوجی شکست" کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سینٹکام کے "ایکس" اکاؤنٹ پر آج جمعرات کو جاری کردہ ایک وڈیو پیغام میں انہوں نے مزید کہا "ہم نے 40 دن سے بھی کم وقت میں اس فوج کو تباہ کر دیا جسے ایران نے 40 سالوں میں بنایا تھا"۔

انہوں نے واضح کیا کہ "آپریشن ایپک فیوری" (Operation Epic Fury) کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی فوجی اہداف پر 13 ہزار سے زائد فضائی حملے کیے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جنگ بندی کی پاسداری کرتے ہوئے جارحانہ کارروائیاں روک دی ہیں، تاہم وہ اب بھی علاقے میں موجود اور پوری طرح چوکنا ہیں۔ کوپر نے کہا "ہم دنیا کے سب سے مؤثر فضائی دفاعی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں"۔

ایڈمرل کوپر نے اس بات پر زور دیا کہ فرنٹ لائنز پر تعینات تمام سپاہی، میرینز، پائلٹ اور کوسٹ گارڈز دنیا کی اس سب سے طاقت ور اور مہلک فوج کی نمائندگی کرتے ہیں جسے تاریخ نے کبھی دیکھا ہے۔

یہ بیان امریکی حکام کے ان انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات کے دوران امریکی فوج خطے سے اپنے دستے واپس نہیں بلائے گی۔ فوکس نیوز کے مطابق تقریباً 20 امریکی جنگی جہاز اور 12 سے زیادہ فضائی اسکواڈرن اب بھی خطے میں موجود ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر تہران نے دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ حملہ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "عظیم امریکی فوج اگلی جنگ کی تیاری کے لیے تھوڑی دیر آرام کر رہی ہے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایک حقیقی معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو جاتا، تمام امریکی بحری جہاز، طیارے اور فوجی ایران کے گرد اپنی پوزیشنوں پر برقرار رہیں گے۔ ٹرمپ نے یہ بھی اعادہ کیا کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آبنائے ہرمز کی حفاظت اور اسے کھلا رکھنے کی ضمانت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران لبنان پر اسرائیل کے مہلک حملوں کے بعد، جس میں 250 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکی کے باعث یہ عارضی جنگ بندی ٹوٹنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف اور صدر مسعود پزشکیان نے دوبارہ اس بات پر زور دیا ہے کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کا تسلسل امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو بے معنی بنا دے گا۔

دریں اثنا، ایرانی وزارت خارجہ نے بیان دیا ہے کہ "پاکستان کی مداخلت نے گذشتہ روز جنگ بندی کی خلاف ورزی پر تہران کو جوابی رد عمل سے روک دیا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں