امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں کام کرنے والی امن کونسل نے ان خبروں کی تردید کر دی ہے جن میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ کونسل کو مالیاتی بحران کا سامنا ہے جس کی وجہ سے غزہ منصوبہ متاثر ہو رہا ہے۔
کونسل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس" پر جاری ایک سرکاری بیان میں کہا کہ امن کونسل ایک متحرک تنظیم ہے جو منصوبوں پر عمل درآمد پر توجہ مرکوز رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر سرمایہ طلب کرتی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ فنڈنگ کی کوئی پابندی نہیں ہے اور اب تک فنڈز کی تمام درخواستیں فوری اور مکمل طور پر پوری کی گئی ہیں۔
Fundamentally incorrect and misleading reporting by @Reuters today.
— Board of Peace (@BoardOfPeace) April 10, 2026
The Board of Peace is a lean, execution-focused organization that calls capital as needed. There are no funding constraints. To date, all funding requests have been met immediately and in full.
To be sure, far…
بیان میں مزید کہا گیا کہ یقیناً ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، اسی لیے ہم غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی کو حکمرانی کی بحالی، امداد کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور ان ہزاروں سول ملازمین کی مدد کرنے پر توجہ دے رہے ہیں جو فی الوقت تنخواہوں کے بغیر کام کر رہے ہیں۔
امن کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی کی تعیناتی کی شرائط غزہ کے لیے امن منصوبے میں واضح طور پر درج ہیں جن پر تمام فریقین نے اتفاق کیا ہے۔ اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن منصوبے پر مکمل اور پختہ عمل درآمد ہے، جس میں غزہ کے مسلح گروہوں کی جانب سے ہتھیاروں اور فوجی ڈھانچے کا خاتمہ شامل ہے۔ اس سے بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو، اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلاء اور امن منصوبے سمیت سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 پر مکمل عمل درآمد کی راہ ہموار ہوگی۔
17 ارب ڈالر کا معمولی حصہ
یہ وضاحت ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ کی قیادت میں امن کونسل کو غزہ کے لیے کیے گئے 17 ارب ڈالر کے وعدوں میں سے صرف ایک معمولی حصہ موصول ہوا ہے، جس سے ٹرمپ کے لیے اس تباہ حال فلسطینی پٹی کے مستقبل کے منصوبے کو آگے بڑھانا مشکل ہو گیا ہے۔
امن کونسل کے معاملات سے براہِ راست واقف ذریعے نے بتایا کہ رقم فراہم کرنے کا وعدہ کرنے والے دس ممالک میں سے اب تک صرف تین ممالک نے ہی فنڈز میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔
"ایران کے ساتھ جنگ نے ہر چیز کو متاثر کیا"
اسی ذریعے نے مزید بتایا کہ اب تک موصول ہونے والی فنڈنگ ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہے، تاہم اس نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اس کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ نے ہر چیز کو متاثر کیا ہے، جس سے فنڈنگ کی راہ میں حائل مشکلات میں اضافہ ہوا۔
ذریعے کے مطابق غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی فنڈنگ اور سکیورٹی مسائل کی وجہ سے پٹی میں داخل نہیں ہو سکی ہے۔ ایک فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ کونسل نے حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کو آگاہ کیا ہے کہ قومی کمیٹی فی الوقت فنڈز کی کمی کے باعث غزہ میں داخل ہونے سے قاصر ہے۔
عہدیدار نے کونسل کے ایلچی نکولے ملادی نوف کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے فلسطینی دھڑوں سے کہا ہے کہ "اس وقت کوئی رقم دستیاب نہیں ہے"۔
حماس کی تخفیفِ اسلحہ اور اسرائیلی افواج کا انخلاء
رواں سال فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ٹھیک دس دن پہلے ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک کانفرنس کی میزبانی کی تھی جس میں متعدد ممالک نے غزہ کے انتظام اور دو سالہ اسرائیلی بمباری سے مکمل طور پر تباہ ہونے والے اس علاقے کی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر دینے کا عہد کیا تھا۔
اس منصوبے کے تحت حماس کے پاس موجود اسلحہ ختم کرنے کے بعد ساحلی پٹی کی بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو اور اسرائیلی افواج کے انخلاء کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ مالیاتی وعدوں کا مقصد غزہ کے انتظام کے لیے نو تشکیل شدہ قومی کمیٹی کی سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنا تھا، جو کہ فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل امریکہ نواز گروہ ہے اور جس کا مقصد حماس سے پٹی کا کنٹرول حاصل کرنا ہے۔
دوسری جانب حماس نے بارہا سابق نائب وزیر علی شعث کی سربراہی میں اس کمیٹی کو اقتدار سونپنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ علی شعث کی کمیٹی نے غزہ کی وزارتوں اور پولیس فورس کا کنٹرول سنبھالنا ہے۔
عالمی اداروں کے مطابق دو سالہ اسرائیلی بمباری سے غزہ کی دو تہائی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور تعمیرِ نو کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ حماس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ تخفیفِ اسلحہ کے مذاکرات کی میزبانی کرنے والے ملک مصر نے تحریک کو آج ہفتہ کے روز مزید ملاقاتوں کی دعوت دی ہے۔
"مذاکرات بحران کا شکار ہیں"
جنگ بندی کے موجودہ مرحلے نے ہمہ گیر جنگ تو روک دی ہے لیکن اسرائیلی افواج غزہ کے آدھے سے زیادہ غیر آباد رقبے پر قابض ہیں، جبکہ ساحلی پٹی کے ایک چھوٹے سے حصے میں حماس تاحال برسرِ اقتدار ہے۔
ٹرمپ کی ٹیم حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کے ساتھ تخفیفِ اسلحہ پر مذاکرات کر رہی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ سے فوج نکالنے سے پہلے حماس اپنے ہتھیار ڈالے، جبکہ حماس کا موقف ہے کہ وہ اسرائیل کے مکمل انخلاء اور مستقل جنگ بندی کی ضمانت کے بغیر اس کی تعمیل نہیں کرے گی۔
تخفیفِ اسلحہ کے مذاکرات سے واقف ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ مذاکرات اب بھی بحران کا شکار ہیں اور خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل غزہ پر دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے کے لیے کسی بہانے کی تلاش میں ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اگر حماس نے ہتھیار نہ ڈالے تو وہ دوبارہ ہمہ گیر جنگ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔