اسرائیل کی اعلیٰ عدالت میں انتہائی دائیں بازوکےوزیر بن گویرکومعزول کرنےکی درخواست زیرسماعت
حکومتی وزراء نے درخواست پر تنقید اور بین گویر کی حمایت کی
اسرائیل کی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز ملک کے اٹارنی جنرل کی حمایت یافتہ چار درخواستوں کی سماعت کی جو قومی سلامتی کے سخت گیر وزیر اتمار بن گویر کو برطرف کرنے کے لیے دائر کی گئی ہیں۔
یہ کیس عدلیہ اور اسرائیل کی تاریخ میں سب سے زیادہ دائیں بازو کی ایک حکومت کے درمیان کشیدگی کی تازہ ترین مثال ہے اور کئی دیگر وزراء نے اس پر سخت تنقید کی ہے۔
درخواستوں میں بین گویر کو اس بنیاد پر ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے پولیس کی آزادی کو مجروح کیا ہے۔
درخواستوں کو اٹارنی جنرل گالی بہاراو میارا کی حمایت حاصل ہے جنہوں نے جنوری میں کہا تھا کہ عدالت وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو اس بات کی وضاحت کرنے کا حکم دے کہ وہ کابینہ کے رکن کو کیوں برخاست نہیں کر رہے۔
اپنی درخواست میں بہاراو-میارا نے بین گویر پر الزام لگایا کہ انہوں نے "قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تحقیقات کے حساس ترین شعبوں میں اسرائیلی پولیس کی سرگرمیوں کو غلط طریقے سے متأثر کرنے کے لیے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور بنیادی جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کی۔"
سماعت سے پہلے بین گویر نے اٹارنی جنرل کی مخالفت کرتے ہوئے ان کی "گرفتاری اور تفتیش" کا مطالبہ کیا۔
"(وہ) کہتی ہیں میں پالیسی بناتی ہوں اور پولیس کو تبدیل کرتی ہوں -- وہ صحیح ہیں۔ وہ کہتی ہیں میں نے تقرریوں میں مداخلت کی اور اپنی پالیسی نافذ کرنے کے لیے 1,000 سے زیادہ لوگوں کا تقرر کیا -- وہ اس معاملے میں بھی صحیح ہیں،" انہوں نے اپنے حامیوں میں گھرے ہوئے کہا۔
"وزیر کی تقرری اور اس کے اختیارات میں مداخلت کی کوشش جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ جمہوریت نہیں گرے گی، عدالتی آمریت گرے گی"۔ انہوں نے عزم کیا۔
وزیرِ انصاف یاریو لیون نے بھی اس بات کی تائید کی اور سماعت کو "غیر قانونی" قرار دیتے ہوئے کہا، "ججز کے فیصلے میں کوئی معقولیت نہیں ہوگی۔"
وزیرِ خارجہ اور سابق وزیرِ انصاف گیڈون سار نے عدالت پر زور دیا ہے کہ وہ "جمہوریت کو نقصان پہنچانے سے گریز کرے۔" انہوں نے ٹیلی گرام پر لکھا، یہ کیس "بہت غیر معقول ہے" جس کا مقصد ہے کہ نیتن یاہو کو بین گویر کو برطرف کرنے پر مجبور کیا جائے۔
پیر کو نیتن یاہو نے بین گویر کو معزول کرنے کے حوالے سے 129 صفحات پر مشتمل اپنا جواب جمع کروایا اور یہ دلیل دی کہ یہ ایک "غیر آئینی مطالبہ" ہے اور عدالت کے پاس حکومتی فیصلوں یا وزراء کی تقرری میں مداخلت کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
گذشتہ مہینے انہوں نے اٹارنی جنرل کی درخواست کو "وجودی جنگ کے درمیان ایک ناقابلِ فہم بات" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ایک سینئر وزیر کو جس کے خلاف کوئی مجرمانہ تفتیش نہیں ہوئی، برطرف کرنے کا مطالبہ "جمہوریت کی بنیادوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔"
-
اسرائیل نے لبنانی مذاکرات میں فرانس کی شرکت مسترد کر دی
اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی حملے لبنان میں جاری، جنوبی علاقوں میں گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا
واشنگٹن میں ابتدائی مذاکرات کے باوجود اسرائیلی حملے لبنان میں جاری ...
مشرق وسطی -
چوبیس گھنٹوں کے دوران حزب اللہ کے 200 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا: اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جنوبی لبنان میں ...
مشرق وسطی