اسرائیل نے لبنانی مذاکرات میں فرانس کی شرکت مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے تل ابیب اور لبنان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں پیرس کی شرکت کو مسترد کر دیا ہے۔

مذکورہ ذریعے کا کہنا ہے کہ اسرائیل فرانس کو ایک غیر منصفانہ ثالث سمجھتا ہے جو اپنی غیر جانبداری کھو چکا ہے اور اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

ذریعے نے مزید بتایا کہ اسرائیل فرانس پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے غیر متوازن موقف اپنا رکھا ہے اور وہ حزب اللہ کو نہتا کرنے کی حمایت نہیں کر رہا۔ تل ابیب نے پیرس پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ ایران اور حزب اللہ کے خلاف حملوں پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تاریخی موقع

منگل کے روز واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست امن مذاکرات شروع ہوئے جو سنہ 1993ء کے بعد اپنی نوعیت کے پہلے مذاکرات ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسے ایک تاریخی موقع قرار دیا ہے۔

اس اہم اجلاس میں امریکہ میں متعین اسرائیلی سفیر يحيئيل ليتر اور واشنگٹن میں لبنانی سفیرہ ندی حمادہ معوض نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور لبنان میں امریکی سفیر میشل عیسیٰ بھی موجود تھے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم ریاستِ لبنان کے ساتھ امن اور تعلقات کی بحالی چاہتے ہیں۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کوئی بڑے اختلافات نہیں ہیں، اصل مسئلہ حزب اللہ ہے۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات واشنگٹن میں شروع ہو رہے ہیں۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات واشنگٹن میں شروع ہو رہے ہیں۔



امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان مذاکرات کا مقصد طویل مدت کے لیے اسرائیل کی شمالی سرحدوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانا اور لبنانی حکومت کے اس عزم کی حمایت کرنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور سیاسی زندگی پر مکمل خودمختاری حاصل کر سکے۔

واضح رہے کہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے گذشتہ دنوں ان مذاکرات کو مسترد کر دیا تھا۔ تنظیم کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے اس اجلاس کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

جب سے حزب اللہ نے لبنان کو جنگ میں دھکیلا ہے، اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں دو ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور دس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔

مذاکرات کی شرائط اور توقعات

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے ان مذاکرات کے لیے دو شرائط رکھی ہیں جن میں حزب اللہ کا اسلحہ ختم کرنا اور نسلوں تک برقرار رہنے والے امن معاہدے تک پہنچنا شامل ہے۔

ادھر فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک سابق اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ سوچنا کہ اسرائیل اور لبنان کا تنازع واشنگٹن میں حل ہو جائے گا، بہت زیادہ خوش فہمی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ توقعات کی سطح بہت کم ہے۔

انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کسی معاہدے تک پہنچنا بہت مشکل ہوگا، اسرائیل شمال میں ایک بفر زون قائم کرے گا جو بالکل ویسا ہی ہوگا جیسا غزہ میں بنایا گیا ہے۔

اسرائیل جنوبی لبنان میں ایک سکیورٹی زون قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جہاں اسرائیلی افواج اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے داخل ہوئی ہیں جو اسرائیل کے بقول شمالی رہائشیوں کے لیے حزب اللہ کی جانب سے پیدا کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں