آخرکار دنیا نے ذیابیطس کی پانچویں قسم کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بین الاقوامی فیڈریشن برائے ذیابیطس نے طویل سائنسی بحث کے بعد باضابطہ طور پر اس بیماری کی پانچویں قسم کو تسلیم کر لیا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قسم دنیا بھر میں تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ افراد کو متاثر کر سکتی ہے، خصوصاً کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں۔

اعداد و شمار کے مطابق یہ قسم جسے پہلے غذائی قلت سے متعلق ذیابیطس کہا جاتا تھا، روایتی اقسام سے بنیادی طور پر مختلف ہے، جیسا کہ سائنسی ویب سائٹ ''سائنس الرٹ'' کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا۔

اس وقت ذیابیطس کی مختلف اقسام کو کئی بڑی درجہ بندیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جن میں ہر ایک کا طریقۂ کار الگ ہوتا ہے۔

پہلی قسم ایک خودکار مدافعتی بیماری ہے، جس میں جسم لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیوں پر حملہ کرتا ہے، جبکہ دوسری قسم میں جسم انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتا ہے اور یہ عموماً طرزِ زندگی سے جڑی ہوتی ہے۔

تیسری قسم (3c) لبلبے کو پہنچنے والے نقصان مثلاً بیماری یا چوٹ کے باعث ہوتی ہے، جبکہ چوتھی قسم (حمل کے دوران ذیابیطس) عارضی ہارمونل تبدیلیوں کے نتیجے میں سامنے آتی ہے۔

حالیہ طور پر تسلیم کی جانے والی پانچویں قسم ایک الگ نوعیت کی بیماری ہے، جو طویل عرصے تک غذائی کمی کے باعث پیدا ہوتی ہے، جس سے لبلبے کی انسولین بنانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

بیماری کا مختلف طریقۂ کار

تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے مریضوں میں انسولین کی پیداوار کم ہوتی ہے، لیکن ان میں دوسری قسم کی طرح انسولین کے خلاف مزاحمت نہیں پائی جاتی۔

یہی فرق اس بات کا سبب بنتا ہے کہ روایتی علاج بعض اوقات مؤثر ثابت نہیں ہوتے، بلکہ غلط استعمال کی صورت میں نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ طویل عرصے تک غذائی قلت خصوصاً بچپن میں لبلبے پر مستقل اثرات چھوڑ سکتی ہے، جس سے خون میں شوگر کو متوازن رکھنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔

اگرچہ اس قسم کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے، لیکن اب بھی کئی بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ ماضی میں واضح تشخیصی معیار نہ ہونے کی وجہ سے اسے دیگر اقسام کے ساتھ خلط ملط کیا جاتا رہا، جس کے باعث اس کے پھیلاؤ کا درست اندازہ لگانا اور مخصوص علاج تیار کرنا مشکل رہا۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ روایتی انسولین کی خوراک کا استعمال بعض مریضوں میں شوگر کی خطرناک حد تک کمی کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں غذائی کمی اور طبی سہولیات کی کمی ہو۔

بہتر سمجھ بوجھ کے لیے بین الاقوامی فیڈریشن برائے ذیابیطس نے ایک خصوصی ورکنگ گروپ قائم کیا ہے، جو اس قسم کے لیے تشخیص اور علاج کے معیار وضع کرے گا، اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مریضوں کا ریکارڈ بھی تیار کیا جائے گا اور مستقبل کی تحقیق کو فروغ دیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق صرف تسلیم کر لینا کافی نہیں، بلکہ اس بیماری کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے وسیع تحقیق کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ سماجی اور معاشی عوامل سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ ذیابیطس کی پانچویں قسم کا اعتراف بیماری کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو صحت میں غذائیت کے کردار کو اجاگر کرتا ہے اور ایسے نئے علاج کی راہ ہموار کرتا ہے، جو صرف علامات نہیں بلکہ بنیادی وجوہات کو ہدف بنائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں