ایران جنگ

ایرانیوں کو جنگ اور کریک ڈاؤن کے بعد دباؤ میں اضافے کا خدشہ ہے

ایرانیوں کو جنگ اور کریک ڈاؤن کے بعد دباؤ میں اضافے کا خدشہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران میں کئی ہفتوں کی امریکی و اسرائیلی بم باری اور جنوری میں مظاہرین کے خلاف ہونے والے خونی کریک ڈاؤن کے بعد، ایرانی عوام زندگی میں معمول کی رونقیں بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم فضائی حملوں کے تباہ کن اثرات اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث مستقبل کے حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

جنگ بندی میں توسیع اور تنازع کے خاتمے کے لیے متوقع مذاکرات کے پیشِ نظر دکانیں، ریستوران اور سرکاری دفاتر کھل گئے ہیں۔ تہران کے پارکوں اور کیفے میں لوگ نظر تو آ رہے ہیں، لیکن اس ظاہری سکون کے پیچھے معیشت تیزی سے زوال پذیر ہے اور عوام کو حکومت کی جانب سے نئے کریک ڈاؤن کا خوف لاحق ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے حوالے سے قوی امید ظاہر کی ہے۔

روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے 37 سالہ فریبہ، جنہوں نے جنوری کے مظاہروں میں حصہ لیا تھا، کا کہنا تھا کہ "جنگ تو ختم ہو جائے گی لیکن ہمارے اصل مسائل نظام کے ساتھ تب شروع ہوں گے۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر حکومت کا امریکہ کے ساتھ معاہدہ ہو گیا تو عام لوگوں پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا"۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بم باری میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جن میں پہلے ہی دن ایک اسکول کی درجنوں طالبات بھی شامل تھیں۔ اس بم باری نے ملکی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایرانی نظام کئی ہفتوں کی شدید بمباری کے باوجود اپنی جگہ قائم ہے۔ تھنک ٹینک 'ڈون' کے تجزیہ کار امید معماریان کا کہنا ہے کہ ایرانیوں کو احساس ہو گیا ہے کہ اس جنگ سے نظام تو نہیں گرا، البتہ ان کی معاشی زندگی مزید بدتر ہو جائے گی۔ ان کے مطابق "فوج ہتھیار نہیں ڈالے گی اور مستقبل میں صورتحال مزید خونی اور مہنگی ہو سکتی ہے"۔

جنوری میں ہونے والے احتجاج کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانیوں کی مدد کا وعدہ کیا تھا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایرانی حکمرانوں کو ہٹانے کا ہدف رکھا تھا، لیکن جنگ طویل ہونے کے ساتھ یہ مقصد دھندلا گیا ہے۔ معماریان کے مطابق بہت سے ایرانیوں پر اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ جنگ ان کی مدد کے لیے نہیں تھی۔

تہران کے شمال میں خواتین اب بھی حجاب کے بغیر نظر آتی ہیں، جو 2022 کے احتجاج کے بعد پیدا ہونے والی نسبتاً نرمی کا نتیجہ ہے، لیکن عوام کو خدشہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ ہوتے ہی حکومت دوبارہ سختیاں شروع کر دے گی کیونکہ اس وقت بیرونی دباؤ ختم ہو چکا ہو گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے ایرانیوں کو مزید تقسیم کر دیا ہے، لیکن ان کے پاس اختیارات محدود ہیں۔ انٹرنیٹ پر سخت پابندیوں نے نہ صرف کاروبار بلکہ عام لوگوں کا اپنوں سے رابطہ بھی مشکل بنا دیا ہے۔ ماہرین کا انتباہ ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد عوامی غصہ دوبارہ بھڑک سکتا ہے، کیونکہ لوگوں کے دلوں میں موجود بے اطمینانی اب ایک ایسی 'خاک تلے دبی چنگاری' کی مانند ہے جو کسی بھی وقت شعلہ بن سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں