اسرائیلی فوج نے اپنے زیر قبضہ لیے نئے لبنانی علاقوں کا پہلی بار نقشہ بھی جاری کیا ہے۔ نئے مقبوضہ جات اور اسرائیلی فوج کی تعیناتی اس نقشے سے ظاہر کی گئی ہے۔ دو روز قبل اسرائیل فوج کا یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ اس نے غزہ کی طرح جنوبی لبنان میں بھی 'ییلو لائن' قائم کر دی ہے۔
اب حزب اللہ کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی گئی جنگ بندی کے کچھ ہی دن بعد جنوبی لبنان میں زیر قبضہ لیے گئے علاقوں کا باقاعدہ نقشہ جاری کیا ہے۔ تاہم اس بارے میں فوری طور لبنانی حکومت یا حزب اللہ کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان کئی برسوں بعد براہ راست مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ یہ مذاکرات امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے اور مذاکراتی عمل کے باعث ممکن ہوا ہے۔ امریکہ اور ایران کے حکام بھی 47 سال بعد ایک میز پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بیٹھے تھے۔ اب اسلام آباد کے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے دونوں ملکوں کے نمائندے پہنچنے والے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے جاری کردہ اس نقشے میں پانچ سے دس کلومیٹر کا علاقہ اسرائیلی فوج کی تعیناتی کے حوالے سے دکھایا گیا ہے جس میں اسرائیلی فوج نے نام نہاد قسم کی بفر زون قائم کرنے کا پہلے سے اعلان کر رکھا ہے۔
اس مقصد کے لیے اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے میں دیہاتوں کو ملیا میٹ کیا ہے۔ مجموعی طور پر اسرائیلی فوج کی جنگ کے نتیجے میں بارہ لاکھ لبنانی شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔
بفر زون سٹریٹجی کے تحت اس سے پہلے اسرائیلی فوج نے شام میں گولان کی پہاڑیوں سے جڑے شامی علاقے پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
لبنانی علاقے میں اسرائیل کی پانچ ڈویژن فوج کی تعیناتی کے علاوہ اسرائیلی بحریہ کے دستے بھی تعینات دکھائے گئے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس علاقے پر قبضے سے پہلے اس کے سرحدی علاقے کے یہودی خطرے میں تھے۔
اسرائیلی فوج نے ان لبنانی علاقوں سے بمباری کر کے نکالے گئے لبنانی شہریوں کو واپس اپنے گھروں اور علاقوں میں نہ آنے دینے کا بھی انتباہ کیا ہے۔ کہ جنوبی علاقوں کے لبنانی اپنے گھروں اور دیہاتوں میں واپس نہ آئیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے اتوار کے روز کہا تھا کہ لبنان کے سرحدی علاقوں میں گھر بنانا اسرائیل کے لیے اچھا نہیں کہ حزب اللہ انہیں اسرائیل کے خلاف استعمال کرتی ہے۔ اس لیے ایسا کوئی بھی ڈھانچہ جو ہمارے فوجیوں کے لیے خطرہ محسوس ہو گا اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
یاد رہے لبنان کے خلاف اسرائیل نے اپنی نئی جنگ 2 مارچ 2026 سے شروع کی ہے۔ اس جنگ میں اب تک 2100 سے زائد لبنانی ہلاک ہوئے ہیں۔ جن میں 177 لبنانی بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ بارہ لاکھ لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں۔