ہم بالواسطہ مذاکرات کے حق میں ہیں، ہمیں "یلو لائن" کی کوائی پروا نہیں : نبیہ بری

لبنانی اسپیکر پارلیمنٹ نے دشمن کے رویے پر عدم اعتماد کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد سے (واپسی میں) صبر و تحمل اور انتظار کرنے کی اپنی اپیل دہرائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے "بالواسطہ مذاکرات" کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ نام نہاد "یلو لائن" (زرد لکیر) کی کوئی پروا نہیں کرتے۔

نبیہ بری نے منگل کے روز ایک صحافتی بیان میں کہا "کس نے کہا کہ ہم مذاکرات کے خلاف ہیں؟ ہم یقیناً بالواسطہ مذاکرات کے حامی ہیں اور ماضی میں ہمارے پاس اس کے متعدد تجربات موجود ہیں۔ میں نے خود امریکی وفود کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے طویل دور کیے ہیں، جن میں حالیہ ترین آموس ہوکشٹائن کے ساتھ سمندری حدود کی حد بندی کا معاملہ تھا جس میں ہم ایک معاہدے تک پہنچے تھے۔ اسی طرح بلیو لائن (نیلی لکیر) پر متنازع نکات کے حوالے سے بھی ہم نے اکثریت کو حل کر لیا تھا اور صرف 5 یا 6 نکات باقی رہ گئے تھے۔ ڈیوڈ ویلچ کے ساتھ قرارداد 1701 کی تیاری کے دوران بھی ایسا ہی رہا، اور ہمارے پاس مذاکرات کے فریم ورک کے طور پر ایک باقاعدہ میکانزم موجود ہے۔"

دس روزہ جنگ بندی کے حوالے سے نبیہ بری نے بے گھر ہونے والے افراد سے اپنی اس اپیل کو دہرایا کہ وہ واپسی میں جلدی نہ کریں کیونکہ دشمن کے رویے پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ جنوبی علاقے میں اسرائیل کی جانب سے اعلان کردہ "یلو لائن" کے بارے میں انہوں نے زور دے کر کہا "ہمارے لیے نہ کوئی زرد لکیر ہے، نہ سرخ، نہ سبز اور نہ کسی اور رنگ کی لکیر... ہمیں ان لکیروں سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم کسی بھی صورت میں اسے قبول نہیں کر سکتے۔ اسرائیل نے جن جنوبی علاقوں میں دراندازی کی ہے اور جہاں وہ اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہاں سے اس کا انخلا ضروری ہے۔ اگر اس نے ان علاقوں یا مقامات پر اپنا قبضہ برقرار رکھا یا اپنی کھینچی ہوئی زرد لکیروں کے ذریعے وہاں موجود رہا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر روز مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔"

نبیہ بری نے اپنی گفتگو کا اختتام یہ کہتے ہوئے کیا کہ "یہ لبنانی سرزمین ہے اور لبنان ایک میٹر زمین کی کمی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں