اسرائیلی فوج کی طرف سے جنوبی لبنان میں کی گئی بمباری کے نتیجے میں ایک صحافی ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا ہے۔ ہلاک شدہ صحافی کی لاش ملبے سے نکال لی گئی ہے۔ ریسکیو اہلکاروں کا اس ملبہ بنی عمارت تک پہنچنا اسرائیلی بمباری نے مشکل بنا دیا تھا۔ یہ بات لبنانی وزارت صحت اور ایک سینیئر فوجی ذمہ دار کے علاوہ ایک پریس ایڈووکیٹ نے بھی بتائی ہے۔
اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے پاس دو صحافیوں کے اسرائیلی بمباری سے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ، تاہم اس نے ریسکیو ٹیم کو ملبہ ہٹانے سے نہیں روکا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ یہ دونوں خواتین صحافی تھیں، ان کے نام امل خلیل اور زینب فاراج ہیں۔ ان میں زینب فاراج فری لانس فوٹو گرافر بتائی گئی ہے۔ یہ دونوں جنوبی لبنان کے قصبے الطائری میں کوریج کے لیے گئی تھیں۔ جہاں اسرائیلی فوج نے بمباری کی تھی۔ ان کے پہنچنے کے بعد ان کی آنکھوں کے سامنے اسرائیلی فوج نے ایک گاڑی ہدف بنایا۔
یہ دیکھ کر دونوں خواتین صحافی ایک قریب عمارت کی طرف لپکیں تاکہ اسرائیلی فوج کی بمباری سے خود کو بچا سکیں۔ لیکن اسرائیلی فوج نے اس عمارت کو بھی اپنی بمباری کی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ بات لبنانی فوج کے سینیئر عہدے دار اور ایک پریس ایڈووکیٹ نے بتائی ہے۔ یونین آف جرنلسٹس کے عہدے دار موفرج کا کہنا ہے کہ ریسکیو اہلکار خاتون فوٹو گرافر زینب فاراج کو ریسکیو کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے سر میں زخم لگا ہے۔
یہ بات یونین آف جرنلسٹس کے عہدے دار اور لبنانی فوجی عہدے دار نے بتائی ہے لیکن جب ریسکیو اہلکار امل خلیل نامی صحافی کو ملبے تلے سے نکالنے کے لیے آگے بڑھے تو اسرائیلی فوج نے ایک دھماکے کی آواز پیدا کرنے والا گرینیڈ پھینکا۔ تاکہ ریسکیو اہلکار خوفزدہ ہوں اور امل خلیل کو ریسکیو نہ سکیں۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج نے نہ صرف بمباری کر کے عمارات کو نقصان پہنچایا اور صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا بلکہ بعد ازاں ریسکیو اہلکاروں کو زخمی ہونے والی صحافی خواتین کو ملبے تلے سے نکالنے میں رکاوٹ پیدا کی۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے گرینڈز پھینکنے کے علاوہ فائرنگ بھی کی۔ نتیجتاً جب امل خلیل تک پہنچنا ممکن ہوا وہ ہلاک ہو چکی تھیں۔ مغربی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ گھوم پھر کر صحافیوں کی شناخت کی آزادانہ شناخت نہیں کر سکا۔ اگرچہ لبنانی میڈیا نے واقعے کو صحافیوں کی شناخت رپورٹ کی ہے۔
'گاڑی اسرائیلی ساختہ بفر زون میں داخل ہوئی تھی'
اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے دو ایسی گاڑیوں کی شناخت کی جو ہمارے قائم کردہ بفر زون میں داخل ہوئی تھیں اور ایک سٹرکچر کے پاس سے گزری تھیں۔ جسے حزب اللہ نے استعمال کیا تھا۔ یہ گاڑیاں اس سٹرکچر سے آگے دفاعی لائن کی طرف آئیں۔ خیال رہے لبنانی علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد اسرائیلی فوج اس علاقے کو بفر زون کا نام دینا چاہتی ہے۔
اسرائیلی فوج نے مزید کہا یہ گاڑیاں اسرائیلی فوج کی طرف آرہی نظر آئیں تو اسرائیلی فوجیوں کو ان سے ڈر اور خطرہ محسوس ہونے لگا۔ جس کے بعد ان گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت یہ گاڑیاں عمارت کے قریب تھیں۔ اس لیے ہم نے تو صحافیوں کو نشانہ بنایا ہی نہیں۔ یاد رہے اس سے قبل ماہ مارچ میں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں تین صحافیوں کو نشانہ بنایا تھا اور تینوں صحافیوں کو قتل کر دیا تھا۔
لبنان میں اسرائیل کی نئی جنگ 2 مارچ سے جاری ہے۔ اب تک اسرائیلی فوج نے بمباری سے 2400 سے زائد لبنانی ہلاک کیے ہیں۔ جبکہ 12 لاکھ سے زائد کو بے گھر بنایا ہے۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج نے کئی کلو میٹر کا علاقہ قبضے میں لے کر اسے بفر زون بنانے کا اعلان کیا ہے۔