پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کے بعد امریکی کانگریس کی مسلح افواج کمیٹی کے سربراہ سینیٹر راجر ویکر نے ایران کے ساتھ مذاکرات ختم کر کے فوجی آپشن اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سفارتکاری اب خطے میں دیرپا استحکام حاصل کرنے میں مؤثر نہیں رہی۔
ویکر نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا: ایران کے نظام کے ساتھ مذاکرات کا وقت ختم ہو چکا ہے۔
خامنہ ای کے بعد آنے والے سخت گیر عناصر پر کسی بھی وعدے یا معاہدے کے حوالے سے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہں نے مزید کہا کہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کو چاہیے کہ وہ اپنے ماہر فوجی کمانڈرز کو ہدایت دیں کہ ایران کی روایتی عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے اور اس کے جوہری پروگرام کے باقی ماندہ عناصر کا خاتمہ کیا جائے۔ یہی واحد راستہ ہے جو خطے میں مستقل استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔
The time is over for negotiations with Iran's regime. The radical successors of Khamenei can never be trusted to keep any promise or agreement. Our Commander-in-Chief should direct his skilled military leaders to finish destroying Iran’s conventional military capabilities and…
— Senator Roger Wicker (@SenatorWicker) April 24, 2026
پاکستان میں مذاکرات تعطل کا شکار
یہ بیانات ایسے حساس وقت میں سامنے آئے ہیں، جب پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئیں، جن کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا راستہ کھولنا تھا۔
بعد ازاں امریکی انتظامیہ نے اس مذاکراتی وفد کا دورہ بھی منسوخ کر دیا جو اسلام آباد آنے والا تھا، جس کی وجہ ایرانی جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی سے متعلق گہرے اختلافات بتائے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ان مذاکرات میں کسی واضح پیش رفت نہ ہونے سے امریکی پالیسی ساز حلقوں میں اس بات پر شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں کہ آیا مذاکراتی عمل کو جاری رکھنا مؤثر بھی ہے یا نہیں۔
واشنگٹن میں سخت مؤقف
مبصرین کے مطابق سینیٹر ویکر کا مؤقف امریکی کانگریس کے اندر بڑھتے ہوئے اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے جو سفارتی دباؤ کے بجائے فوجی باز deterrence کی طرف جانے کی حمایت کر رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب علاقائی کشیدگی برقرار ہے اور ثالثی کی کوششیں کوئی بڑی پیش رفت حاصل نہیں کر سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کمیٹی کے سربراہ کے بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ وائٹ ہاؤس پر ایران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر نظرثانی کے لیے سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔