عراق نیا ایران بن رہا ہے عرب لیگ معذور ہو چکی ہے:عبدالرحمن الراشد کی ’ خلیج کی بات‘ میں
جنوبی یمن کا معاملہ اب ایک طے شدہ کہانی بن چکا ہے
سعودی عرب کے صحافی اور دانشور عبدالرحمن الراشد نے پوڈ کاسٹ ’ خلیج کی بات‘ کے دوسرے حصے میں خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے کئی اہم نکات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کا ذاتی تجزیہ پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ آج علاقائی منظر نامہ طاقت کے نئے توازن کے مطابق ڈھل رہا ہے۔ الراشد نے خبردار کیا کہ عراق کو پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں چیلنجز کا سامنا ہے اور وہ اس راستے پر چل رہا ہے جو اسے ’نیا ایران‘ بنا سکتا ہے۔
الراشد نے پوڈ کاسٹ ’ خلیج کی بات‘ میں میزبان ماجد ابراہیم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا، جن میں عرب لیگ کی صورتحال، عمرو موسیٰ کو دیا گیا ان کا مشہور جواب، کویتی سیاسی محقق عبداللہ النفیسی کے منطقی مغالطوں کی تردید، حوثیوں اور ایران کے تعلقات، یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلاف، سعودی عرب میں نظام تعلیم اور آخر میں ویژن 2030 کے داخلی اثرات اور خارجی نتائج شامل تھے۔
عراق اور ایرانی اثر و رسوخ
مشہور سعودی دانشور عبدالرحمن الراشد نے متنبہ کیا کہ عراق اس نہج پر ہے جہاں وہ ’نیا ایران‘ بن جائے گا۔ الراشد کی یہ پیشگوئی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد مزید پختہ ہوئی ہے کیونکہ عراق، ایران کے ساتھ جغرافیائی اور فرقہ وارانہ تسلسل رکھتا ہے۔ انہوں نے دوبارہ خبردار کیا کہ عراق، عراقیوں اور پورے خطے کے لیے ایک ’شریر اور نقصان دہ‘ ریاست میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ ”حالیہ بحران نے ثابت کر دیا کہ ایران نے عراقی سرزمین کو سعودی عرب، کویت اور خلیجی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے بطور لانچنگ پیڈ استعمال کیا۔ عراق کو ساختی اور فوری نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔“ انہوں نے عراق کے ’نیا ایران‘ بننے کے خطرے سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عراق، ایران کے ساتھ جنگ میں ملوث ہے اور اس جنگ کا حصہ ہے۔
🔴 "خسائر القاهرة بمليارات الدولارات"
— مزيج - Mazeej (@MazeejStudios) April 28, 2026
⭕️ عبد الرحمن الراشد يوضح: مصر تضررت من إيران.. أكثر من أميركا والسعودية
📺 يمكنكم الآن مشاهدة الجزء الثاني من بودكاست الكلام خليجي على يوتيوب:https://t.co/MQ2b4NBBbp@aalrashed @Majediano pic.twitter.com/9ULvGAT0Av
مصر کو پہنچنے والا نقصان
الراشد نے اپنی گفتگو میں انکشاف کیا کہ خطے میں ایرانی آلہ کاروں کی وجہ سے مصر کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کی شکست قاہرہ کے مفاد میں ہے کیونکہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں سے قاہرہ ’سب سے زیادہ متاثر‘ ہوا ہے۔ ان کے بہ قول باب المندب میں جہاز رانی کی معطلی سے نہ صرف نہر سویز کی آمدنی متاثر ہوئی جس سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، بلکہ اس کے اثرات عام مصری شہری تک پہنچے کیونکہ ایندھن اور اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئیں اور حکومت کو بجلی کی بچت جیسے سخت اقدامات کرنے پڑے۔ ان کا ماننا ہے کہ خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کی شکست عوامی نعروں سے ہٹ کر براہ راست مصر کے قومی مفادات کی خدمت کرتی ہے۔
🔴 "الرئيس مبارك كسر إحدى قواعدها عام 1990"
— مزيج - Mazeej (@MazeejStudios) April 29, 2026
⭕ الكاتب والصحافي السعودي عبد الرحمن الراشد يوضح لماذا يعتبر الجامعة العربية "كسيحة وبلا قيمة"
📺 شاهدوا واستمعوا إلى بودكاست "الكلام خليجي" مع ماجد إبراهيم🎙️ على يوتيوب: https://t.co/PsderMSiAa@aalrashed @Majediano pic.twitter.com/WavPR7Xpqp
عرب لیگ کی حالتِ زار
جب بھی مصر کا تذکرہ ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی عرب لیگ کی فائل بھی کھل جاتی ہے جو اپنی موجودہ حالت میں کمزور پڑ چکی ہے۔ الراشد نے یہاں رک کر اہم نکات بیان کیے اور عرب لیگ کو ’معذور‘ قرار دیا۔ ان کے الفاظ میں سیاسی اور معاشی منصوبوں کے حوالے سے عرب دنیا میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی، تاہم انہوں نے اس کی ایک تاریخی کامیابی کا ذکر کیا جب عرب لیگ نے ’کویت کی آزادی‘ کو قانونی حیثیت دی تھی۔
🔴 "هزيمة إسرائيل لإيران تخدم مصر.. وعمرو موسى شخصية شعبوية"
— مزيج - Mazeej (@MazeejStudios) April 27, 2026
⭕ غداً على منصة مزيج.. الجزء 2 من حوار عبد الرحمن عبد الراشد في بودكاست الكلام خليجي🎙️ مع ماجد إبراهيم@aalrashed @Majediano pic.twitter.com/Ih6kOSxMaC
عمرو موسیٰ کے ساتھ تکرار
عرب لیگ کے حوالے سے گفتگو کے دوران سابق سیکرٹری جنرل اور مشہور مصری سفارت کار ڈاکٹر عمرو موسیٰ کے ساتھ ان کے جملوں کے تبادلے کا ذکر بھی آیا۔ عمرو موسیٰ نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنی پوسٹس میں کہا تھا کہ ایران پر جاری حملہ محض ایک اسرائیلی مہم جوئی نہیں ہے جس میں بنجمن نیتن یاھو نے امریکہ کو گھسیٹ لیا ہو، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی امریکی اسٹریٹجک چال ہے جس میں واشنگٹن نے اسرائیل کو ایک علاقائی شراکت دار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کو ایک ایسی جیو پولیٹیکل صورتحال میں بدلا جا سکے جس کی قیادت اسرائیل کرے۔ الراشد کا کہنا تھا کہ عمرو موسیٰ ایران کی غلطی کو جانتے ہوئے بھی عوامی جذبات سے کھیلنے والے ’پاپولسٹ‘ بنے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پاس ایسا مداح طبقہ ہے جنہیں وہ خوش رکھنا چاہتے ہیں۔
خلیجی ممالک اور عرب لیگ کی فنڈنگ
ماجد ابراہیم نے عبدالرحمن الراشد سے سوال کیا کہ ہم ایک ایسے عرب سیاسی ادارے پر کیوں خرچ کرتے ہیں جو خلیجی ممالک کو حقیر سمجھتا ہے اور ان کی توہین کرتا ہے، جبکہ عرب لیگ کو سب سے زیادہ فنڈز سعودی عرب اور کویت دیتے ہیں؟ الراشد نے اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں وضاحت کی کہ اگرچہ عرب لیگ کا کوئی ٹھوس اور حقیقی اثر و رسوخ نہیں ہے، تاہم اسے ختم کرنے کا خیال درست نہیں کیونکہ مستقبل میں اس کے کردار کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے اسے ایک ’اعلیٰ نصب العین‘ کی علامت قرار دیا کیونکہ اس کے رکن ممالک تاریخی، جغرافیائی اور لسانی اعتبار سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
🔴 "الرئيس مبارك كسر إحدى قواعدها عام 1990"
— مزيج - Mazeej (@MazeejStudios) April 29, 2026
⭕ الكاتب والصحافي السعودي عبد الرحمن الراشد يوضح لماذا يعتبر الجامعة العربية "كسيحة وبلا قيمة"
📺 شاهدوا واستمعوا إلى بودكاست "الكلام خليجي" مع ماجد إبراهيم🎙️ على يوتيوب: https://t.co/PsderMSiAa@aalrashed @Majediano pic.twitter.com/WavPR7Xpqp
جنوبی یمن کا معاملہ
ماجد ابراہیم کے ساتھ گفتگو کے دوران الراشد نے جنوبی یمن کے مسئلے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی یمن کا معاملہ، جس کی سرپرستی سعودی عرب عالمی تائید کے ساتھ کر رہا ہے، اب ایک طے شدہ حقیقت بن چکا ہے کیونکہ یہ خالصتاً ایک ’یمنی سے یمنی‘ کہانی ہے۔ انہوں نے موجودہ یمنی حکومت کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ”سعودی عرب کی غلطی یہ تھی کہ اس نے گذشتہ برسوں میں جنوبی یمن کے معاملے کو حتمی طور پر حل نہیں کیا، جبکہ وہاں یمنی عوام اور سعودی عرب کے علاوہ کسی کا اختیار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ سعودی عرب وہاں فوجی کارروائیوں کا اصل حصہ ہے۔“ انہوں نے اشارہ کیا کہ کسی بھی دوسری قوت کی موجودگی تبدیلیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور سعودی عرب کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کو اس سے نقصان نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی یمن کا علاقہ سیاسی اور فوجی سکیورٹی کے لحاظ سے مکمل طور پر سعودی اثر و رسوخ کا علاقہ ہے۔ جنوبی یمن کے معاملے کو صرف پانچ دنوں میں حل کر لیا گیا تھا اور ہر کوئی فوجی کارروائیوں کی درستگی پر حیران رہ گیا تھا کیونکہ یہ ایک بہت بڑا علاقہ ہے جو رقبے میں شام سے تین گنا بڑا ہے۔
عبداللہ النفیسی کے نظریات کی تردید
پوڈ کاسٹ ’الکلام خلیجی‘ کے دوسرے حصے میں الراشد نے کویتی سیاسی محقق ڈاکٹر عبداللہ النفیسی کے افکار پر بھی بحث کی۔ الراشد نے انہیں ’نظریہ سازش‘ پر یقین رکھنے والا شخص قرار دیا جو عوامی مقبولیت والے بیانات کا شوق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ النفیسی کا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ کوئی ہے جو خطے بالخصوص سعودی عرب کی سکیورٹی کو نقصان پہنچانے کے لیے سازشیں کر رہا ہے۔ الراشد نے ان خیالات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ترقیاتی منصوبے اور ان کے خارجہ تعلقات ان سازشی نظریات کی نفی کرتے ہیں۔
🔴 "اليمن الجنوبي يفترض أن يكون به اليمنيون والسعوديون فقط"
— مزيج - Mazeej (@MazeejStudios) April 27, 2026
⭕ غداً على منصة مزيج.. الجزء 2 من حوار عبد الرحمن عبد الراشد في بودكاست الكلام خليجي🎙️ مع ماجد إبراهيم@aalrashed @Majediano pic.twitter.com/VUlOJkgBRj
النفیسی کے اس مشہور نظریے پر کہ خطے کی کئی خلیجی ریاستیں ختم ہو جائیں گی، الراشد نے کہا کہ یہ ریاستیں آج بھی اپنا وجود اور تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں اور ایران کے خلاف جنگ جیسے مشکل ترین چیلنج کے باوجود ان میں سے اکثر کی صورتحال مستحکم ہے۔
سعودی عرب میں نظامِ تعلیم
گفتگو کا رخ سعودی نظامِ تعلیم کی طرف مڑا، خاص طور پر کنگ سعود یونیورسٹی کے اس فیصلے کے بعد جس میں عربی زبان، تاریخ اور جغرافیہ جیسے کچھ پروگرامز اور شعبوں کو ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا۔ الراشد نے کہا کہ سعودی عرب میں تعلیم ایک حساس اور تقدیر ساز مسئلہ ہے جو کامیابی اور ترقی کے لیے بنیادی عنصر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سعودی یونیورسٹیوں کو سائنسی شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ایسے ہی اقدامات شروع کرنے کی ضرورت ہے۔
🔴 "العراق هو إيران الجديدة.. وهزيمة طهران مصلحة مصرية"
— مزيج - Mazeej (@MazeejStudios) April 26, 2026
🔴 "اليمن منطقة سعودية بامتياز.. والجامعة العربية مقبرة المتقاعدين"
🔴 الخلاف السعودي الإماراتي.. أين وصل؟
⭕ قريباً.. الجزء الثاني من حوار عبد الرحمن الراشد في بودكاست "الكلام خليجي" 🎙️ مع ماجد إبراهيم @aalrashed… pic.twitter.com/D51n3YPZrz
ویژن 2030 کے اثرات
ویژن 2030 کے ایک دہائی پر محیط نتائج پر بات کرتے ہوئے الراشد نے کہا کہ اس ویژن نے مملکت کو تبدیلی کا ایک وسیع ڈھانچہ فراہم کیا ہے، جس کے اثرات اب سعودی شناخت، شخصیت اور سوچ کے معیار پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس وژن نے سعودی عرب کی داخلی کامیابیوں کو مستحکم کیا اور عالمی سطح پر اس کی موجودگی کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔