ہمارا مسئلہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں: نبيه بری کے قریبی حلقوں کا موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایک ایسے وقت میں جب علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اسرائیلی حملوں کی لہر روکنے کے لیے رابطے جاری ہیں اور وقفہ وقفہ سے بڑھتے ہوئے ان حملوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے میں 3 اضافی ہفتوں کی توسیع کا پہلا ہفتہ گزر چکا ہے، اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا معاملہ سیاسی بازار کی نذر ہو گیا ہے۔ صدر جمہوریہ جوزف عون اور سپیکر پارلیمنٹ نبيه بري کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے باعث اس ہفتے ایوان صدر میں ہونے والا سہ فریقی اجلاس کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

معاملات اس وقت مزید بگڑ گئے جب نبيه بری نے چند روز قبل ایک بیان میں صدر عون پر براہ راست مذاکرات کے حوالے سے غیر درست گفتگو کا الزام عائد کیا۔ نبيه بری کی سربراہی میں امل موومنٹ اور حزب اللہ پر مشتمل نام نہاد "شیعہ اتحاد" ان مذاکرات کا مخالف ہے جس کی وجہ سے لبنانی حکومت کے سرکاری موقف میں ہم آہنگی پیدا نہیں ہو پا رہی اور ملک پر دوبارہ وسیع تر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔

اصل مسئلہ اسرائیل کی پاسداری ہے

اس تناظر میں نبيه بری کے موقف سے آگاہ سیاسی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اصل مسئلہ مذاکرات کی شکل کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ اسرائیل طے شدہ امور پر کس حد تک عمل درآمد کرتا ہے۔ ذرائع نے سوال اٹھایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے عمل کو دیکھیں جو پہلے پاکستانی ثالثی میں براہ راست شروع ہوئے اور اب غیر براہ راست اور ٹیلی فون کے ذریعے ہو رہے ہیں، اس کے باوجود دونوں جانب سے ایک گولی بھی نہیں چلائی گئی کیونکہ ایران جنگ بندی کا پابند ہے، تو پھر لبنان کی جنگ پر اس کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا اور اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کیوں نہیں کر رہا؟

ذرائع نے مزید دریافت کیا کہ ہم آگ اور قبضے کے سائے میں براہ راست مذاکرات کی طرف کیوں جائیں؟ یہ درست ہے کہ لبنان نے ماضی میں براہ راست (میڈرڈ مذاکرات) اور غیر براہ راست مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے لیکن نتائج ہمیشہ امریکی ثالثی میں ہونے والے غیر براہ راست مذاکرات سے ہی حاصل ہوئے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل سنہ 2024ء میں خصوصی ایلچی آموس ہوکشٹائن کی ثالثی میں سمندری حدود کے تعین کے مذاکرات اور پھر سنہ 2024ء میں ہی غیر براہ راست مذاکرات کے ذریعے ہونے والا جنگ بندی معاہدہ ہے۔

ذرائع نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کس جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں جبکہ فضائی حملے نہیں رک رہے اور اب یہ حملے ضلع زہرانی تک پہنچ چکے ہیں جو بیروت کے جنوبی ضاحیہ سے صرف 45 کلومیٹر دور ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ جب تک اسرائیل کی جانب سے جنوبی دیہات خالی کرنے کے انتباہات اور فضائی حملے جاری ہیں، ایوان صدر میں قریب ترین وقت میں کسی سہ فریقی اجلاس کا کوئی امکان نہیں ہے۔

براہ راست مذاکرات کے لیے منظم دباؤ

ذرائع نے لبنان پر براہ راست مذاکرات کے لیے "منظم دباؤ" اور صدر جمہوریہ جوزف عون و اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے درمیان ملاقات کروانے کی کوششوں کا ذکر کیا۔ ان کی رائے میں لبنانی حکام کو ایک متحد اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے کہ جب تک جنگ بندی مستحکم نہیں ہوتی اور اسرائیلی فریق کو اس کی پاسداری پر مجبور نہیں کیا جاتا، مذاکرات کا دوبارہ آغاز نہیں ہو گا۔

سعودی عرب کی حمایت

نبيه بری کے موقف کے حامی ذرائع نے لبنان کے موقف کو مضبوط بنانے کے حوالے سے مملکت سعودی عرب کے حمایتی کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کردار عرب لیگ کے فیصلوں اور سنہ 2002ء کے "زمین کے بدلے امن" کے امن اقدام کے حوالے سے بیروت کے تاریخی کردار سے ہم آہنگ ہے۔

یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل نے گذشتہ ماہ امریکی سرپرستی میں دیرینہ تنازع کے خاتمے کے لیے براہ راست مذاکرات پر اتفاق کیا تھا۔ اگرچہ جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کی گئی تھی لیکن اسرائیلی جانب سے حملوں، فضائی بمباری اور گھر خالی کرنے کے نوٹسز کے ذریعے مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کی طرف ڈرون طیارے بھیجنے اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر حملے کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ حزب اللہ نے صدر جمہوریہ کے مذاکراتی اقدام پر کڑی تنقید کی ہے جبکہ نبيه بری نے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنگ کے تسلسل کو مسترد کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں