’ اپنے والد کے نقش قدم پر چلے تو انجام بھی ویسا ہی ہوگا‘:اسرائیل کی مجتبیٰ خامنہ ای کو دوب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے ایرانی مرشد مجتبیٰ خامنہ ای کو دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے والد اور سابق مرشد علی خامنہ ای کے نقش قدم پر چلنے سے گریز کریں جو 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے پہلے ہی دن ہلاک ہو گئے تھے۔

ایلی کوہن نے اسرائیلی چینل 14 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجتبیٰ کے لیے پیغام یہ ہے کہ اگر وہ اپنے والد کے راستے پر چلے تو ان کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا۔ اس کے علاوہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل آج جتنا مضبوط ہے پہلے کبھی نہ تھا اور ایران آج جتنا کمزور ہے پہلے کبھی نہ تھا۔

نئی ایرانی تجویز

یہ دھمکیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب تل ابیب ماضی میں بھی کئی بار نئے ایرانی مرشد اعلیٰ اور دیگر ایرانی قائدین کے ممکنہ قتل کا اشارہ دے چکا ہے۔ اسرائیل اس وقت امریکہ کی جانب سے دوبارہ لڑائی اور جنگ شروع کرنے کے لیے گرین سگنل کا منتظر ہے۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ چند ماہ قبل ایران کو بھرپور ضرب لگانے اور اسے برسوں کے لیے کمزور کرنے کا جو موقع ملا ہے وہ شاید دوبارہ نہ ملے۔ اسے یہ خدشہ بھی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران کے ساتھ کسی ایسی ڈیل میں جلد بازی نہ کر دیں جس میں جوہری فائل کا جڑ سے علاج نہ کیا گیا ہو۔

دوسری جانب خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران نے امریکہ کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے جو 14 نکات پر مشتمل ہے اور اس میں جنگ کے مستقل خاتمے اور خطے سے امریکی افواج کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ایرانی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں اس تجویز کی منظوری کے امکان کو مسترد کر دیا جس میں بہ ظاہر ایرانی جوہری معاملے پر بحث کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کر دیا گیا ہے تاکہ پہلے ایرانی بندرگاہوں پر گذشتہ 13 اپریل سے نافذ امریکی محاصرے کے خاتمے اور جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر بات چیت مکمل کی جا سکے۔

درجنوں قائدین کا قتل

یاد رہے کہ 28 فروری سنہ 2026ء کو جنگ چھڑنے کے بعد سے اسرائیل نے تہران پر فضائی حملوں میں درجنوں ایرانی قائدین کو قتل کیا ہے جن میں سب سے نمایاں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے مشیر علی شمخانی اور پاسداران انقلاب کے سپریم کمانڈر محمد پاکپور شامل ہیں۔

اسی طرح ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ اور مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبد الرحیم موسوی بھی اسی دن یعنی 28 فروری کو ہلاک ہوئے تھے۔

بعد ازاں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی اور وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کے علاوہ بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی اور پاسداران انقلاب کی نیول انٹیلی جنس کے سربراہ بہنام رضائی کو بھی قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح چیف آف جنرل اسٹاف کے مشیر جمشید اسحاقی، پاسداران انقلاب کی بحری فوج کے کمانڈر علی رضا تنگسیری اور پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کے سربراہ مجید خادمی بھی مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں