جنوبی لبنان کے گاؤں میں ایک اسرائیلی فوجی کی نئی تصویر نے شدید غصے کی لہر پیدا کر دی ہے ۔تصویر کو دیکھ کرلبنان کے کئی حلقوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
دوسری جانب اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
تصویر میں ایک اسرائیلی فوجی کو دکھایا گیا ہے، جو ایک جنوبی لبنانی گاؤں میں خود سگریٹ پی رہا ہے جبکہ دوسرے سگریٹ کو حضرت مریمؑ کے مجسمے کے منہ میں رکھا ہوا ہے۔ یہ اس نوعیت کا تیسرا واقعہ بتایا جا رہا ہے۔
תקרית מביכה נוספת בלבנון: חייל תועד מעשן סיגריה - תוך שהוא דוחף סיגריה גם לפסל של מרים הבתולה, אימו של ישו. צה"ל: מתחקרים, על פניו מדובר באירוע חמור. תושב הכפר לכאן חדשות: "קצינים בכירים דיברו איתנו - הצבא לא שולט בחיילים" | הדיווח של @ItayBlumental#מהדורתכאןחדשות עם @talberman pic.twitter.com/IGPHiZF71j
— כאן חדשות (@kann_news) May 6, 2026
اس معاملے کے بعد اسرائیلی فوج نے ویڈیو اور تصویر کی جانچ شروع کر دی ہے، جو گزشتہ چند گھنٹوں میں بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔
اسرائیلی فوجی ترجمان ایلا واویا نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان میں کہا کہ فوج اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور یہ رویہ فوجی اقدار سے مکمل طور پر متصادم ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی جانچ کے مطابق یہ تصویر چند ہفتے پرانی ہے۔ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور نتائج کی بنیاد پر متعلقہ فوجی کے خلاف تادیبی اور انضباطی کارروائی کی جائے گی۔
ترجمان کے مطابق اسرائیلی فوج تمام مذاہب کے مقدس مقامات، عبادت گاہوں اور مذہبی علامات کے احترام کو یقینی بنانے کی پابند ہے۔
حضرت عیسیٰ کے مجسمے کی توڑ پھوڑ
یہ ''منظر'' جسے کئی لبنانیوں نے اشتعال انگیز قرار دیا، جنوبی لبنان کے مسیحی دیہات میں ہونے والی ایک سلسلہ وار خلاف ورزیوں کے بعد سامنے آیا۔
ان واقعات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو نقصان پہنچانا اور گھروں کی تباہی بھی شامل ہے۔
#للتوضيح | ينظر جيش الدفاع الإسرائيلي بخطورة بالغة إلى هذا الحادث، ويؤكد أن تصرّف الجندي ينحرف بشكل كامل عن القيم المتوقعة من أفراد جيش الدفاع.
— Lieutenant Colonel Ella Waweya | إيلا واوية (@CaptainElla1) May 6, 2026
🔸 وبحسب الفحص الأولي، فإن الصورة المذكورة التُقطت قبل عدة أسابيع. سيتم التحقيق في الحادث، وسيتم اتخاذ إجراءات قيادية وانضباطية بحق… https://t.co/Hy8q0nZtjj
اس سے قبل اسرائیل نے مسیحی دنیا کے ساتھ روابط بہتر بنانے کے لیے ایک خصوصی سفیر بھی مقرر کیا تھا، یہ اقدام اس وقت سامنے آیاتھا ،جب ایک اسرائیلی فوجی کی وہ ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں اس نے جنوبی قصبے عین إبل کے ایک چوک میں لٹکے ہوئے حضرت عیسیٰ کے مجسمے کو توڑ دیا تھا، جس پر شدید غم و غصہ پیدا ہوا تھا۔
حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں گھروں کی تباہی اور اسرائیلی فوج کی بعض کارروائیوں کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں، جن میں فوجی اہلکاروں کو شہری گھروں میں داخل ہو کر سامان کی تلاشی اور نقصان پہنچاتے دکھایا گیا ہے۔
ان مناظر کو غزہ میں ہونے والی کارروائیوں سے مشابہ قرار دیا گیا ہے، اگرچہ پیمانہ نسبتاً کم بتایا جاتا ہے۔