اسرائیل کی حزب اللہ کے 85 ٹھکانوں پر کارروائی کرنے کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جنوبی لبنان میں کل ہونے والی وسیع فضائی کارروائیوں کے بعد اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس نے حزب اللہ کے 85 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی افواج نے مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے 85 سے زائد بنیادی ڈھانچوں پر حملے کیے، جن میں اسلحہ کے ذخیرے، میزائل داغنے کے پلیٹ فارم اور فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی عمارتیں شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے ارکان ان مقامات کو اسرائیلی فوج اور اسرائیل کے خلاف مبینہ دہشت گرد منصوبوں کی تیاری کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

ترجمان کے مطابق فوج نے مشرقی لبنان کے علاقے بقاع میں ایک سرنگ کو بھی نشانہ بنایا، جسے حزب اللہ مبینہ طور پر اسرائیلی فوج کے خلاف استعمال ہونے والے جنگی سازوسامان کی تیاری کے لیے استعمال کر رہا تھا۔

مشرقی لبنان کے پہاڑی سلسلے

کل اسرائیلی فضائیہ نے بلدہ سریج کے علاقے میں، بلدہ نبی شیت کے جرود کے قریب، مشرقی لبنان کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں دو فضائی حملے کیے۔

اس کے علاوہ جنوبی لبنان کی درجنوں بستیوں میں شدید فضائی حملے کیے گئے اور انخلاء کے انتباہات جاری کیے گئے، جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو بچے اور تین خواتین شامل ہیں، یہ معلومات لبنان کی وزارت صحت نے جاری کیں۔

وزارت کے مطابق جنوبی علاقے مرجعیون میں واقع بلدہ مجدل سلم پر ایک حملے میں براہِ راست ایک ایمبولینس ٹیم کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں حزب اللہ سے وابستہ ہیلتھ اتھارٹی کا ایک طبی کارکن ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

دوسری جانب حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل میں دو فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں، جسے اس نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کا جواب قرار دیا ہے۔

مذاکرات کا نیا دور

یہ سب اس وقت سامنے آیا ہے، جب توقع کی جا رہی ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان آئندہ ہفتے واشنگٹن میں مذاکرات کا نیا دور منعقد ہوگا۔

لبنانی وزیر خارجہ یوسف رَجی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 14 مئی کو ہونے والے تیسرے دورِ مذاکرات میں لبنان کے بنیادی مقاصد جنگ بندی کو برقرار رکھنا، اسرائیل کا مقبوضہ لبنانی علاقوں سے انخلا اور ریاستی خودمختاری کو مکمل طور پر بحال کرنا ہیں۔

دوسری جانب لبنانی صدر جوزف عون نے مذاکرات کے لیے سابق سفیر برائے امریکا سیمون کرم کو وفد کی قیادت کی ہدایت دی ہے۔

اس وفد میں امریکا میں لبنان کی سفیر، ان کی نائب اور ایک فوجی نمائندہ بھی شامل ہوں گے۔

یاد رہے کہ 14 اپریل کو واشنگٹن میں ہونے والا ایک سابقہ اجلاس کئی دہائیوں بعد دونوں ممالک کے درمیان اس سطح کا پہلا براہِ راست رابطہ تھا، کیونکہ لبنان اور اسرائیل 1948 سے باضابطہ طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے مرحلے کے مذاکرات کے بعد 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جسے بعد میں دوسرے دور کے بعد مزید تین ہفتوں کے لیے بڑھا دیا گیا۔

جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق جو 16 اپریل کو امریکی وزارت خارجہ نے جاری کیا، اسرائیل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size