ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ شمال مشرقی شہر مشہد میں ایک حملے میں ایران کی سکیورٹی فورسز کے دو ارکان ہلاک ہو گئے جہاں مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کی گئی تھی۔
تسنیم نے کہا کہ ہلاک شدہ دونوں افراد ایرانی فوج کی نظریاتی شاخ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) سے وابستہ نیم فوجی دستے "بسیج فورسز کے ارکان" تھے۔
تسنیم نے واقعے کی تاریخ یا حملہ آوروں کی شناخت نہیں بتائی لیکن کہا ہے کہ "اس فعل کے مرتکب فرد یا افراد کو سزا دی جائے گی۔‘‘
ایجنسی کے مطابق دونوں افراد مشہد شہر میں گشت کے دوران ہلاک ہوئے جہاں علی خامنہ ای کو جمعے کی صبح دفن کیا گیا۔
ایرانی ایجنسی نے مزید کہا کہ "حملہ آوروں کے ہاتھوں ایک راہگیر بھی زخمی ہوا اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا"۔
ایران اور امریکہ کے درمیان اس ہفتے حملے دوبارہ شروع ہو گئے جو مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد سے شدید ترین حملے ہیں۔
-
شہزادہ محمد بن سلمان اور ٹرمپ کی امریکہ ایران مذاکرات پر گفتگو
سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ...
بين الاقوامى -
مشرقی صوبہ تہران میں دھماکہ گولہ بارود کو ناکارہ بنانے سے ہوا: ایرانی سرکاری میڈیا
ایران کے سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز ایک مقامی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ صوبہ ...
مشرق وسطی -
امریکہ نے ایران کی جانب 20 سے زائد جنگی بحری جہاز اور دو طیارہ بردار بحری بیڑے روانہ کر دی
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعہ کے روز ایران کے قریب سمندری حدود میں امریکی ...
بين الاقوامى