سفرِ حج میں عازمین کی رہنمائی: اسلام آباد حاجی کیمپ کے مرد رضاکاروں کے لیے ایک نیا مقصد
عمر رسیدہ اور پہلی بار آنے والے زائرین کی مدد "گہرے اندرونی سکون" کا باعث
جیسا کہ ہر روز ہزاروں پاکستانی حجاج سفرِ حج پر جانے کے لیے اسلام آباد کے حاجی کیمپ سے رجوع کر رہے ہیں تو خاکی یونیفارم میں پرہجوم راہداریوں سے گذرتے پاکستان بوائے سکاؤٹس ایسوسی ایشن کے رضاکار عمر رسیدہ حجاج کو ویکسینیشن کاؤنٹرز، روانگی کے لیے قطاریں بنانے اور دستاویز چیک کرنے والے ڈیسک تک پہنچنے کے لیے رہنمائی کرتے ہیں۔
ان میں آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک 35 سالہ سکول ٹیچر اعجاز احمد بھی ہیں جو پاکستان کے سالانہ حج آپریشن کے دوران بطور سکاؤٹ رضاکار عازمینِ حج کی خدمت کے لیے اپنا آبائی شہر مظفرآباد چھوڑ کر گذشتہ ماہ یہاں آ گئے۔
اجنبیوں کو زندگی کے ایک اہم ترین سفر میں مدد کرنے میں جو طویل گھنٹے صرف ہوتے ہیں، وہ احمد کے لیے محض رضاکارانہ کام نہیں بلکہ روحانی تکمیل کا ایک عمل ہے۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "جب ہم حجاج کی خدمت کرتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے۔ یہی جذبہ ہمیں یہاں لے کر آیا ہے۔ جب ہم یہاں مختلف مراحل پر ان کی سہولت کاری اور رہنمائی کرتے ہیں تو ہمیں گہرا دلی سکون محسوس ہوتا ہے۔"
پاکستان میں بوائے سکاؤٹس کی حج کیمپوں میں موجودگی سے اب سب واقف ہیں جو مکہ روانگی سے قبل ہوائی سفر کے پیچیدہ عمل میں ہزاروں عازمین کی مدد کرتے ہیں۔
وزارت مذہبی امور کے مطابق توقع ہے کہ اس سال پاکستان کے مجموعی حج کوٹے میں سے تقریباً 39,000 حجاج صرف اسلام آباد کے حاجی کیمپ سے سفر کریں گے۔
سعودی عرب کے مکہ روٹ انیشی ایٹو میں 2019 میں پاکستان کی شمولیت کے بعد سے دارالحکومت کے کیمپ میں ہجوم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسلام آباد کے حج ڈائریکٹر قاضی سمیع الرحمٰن نے کہا، "عازمین کے لیے یہاں ایک ہی چھت تلے سہولت فراہم کی گئی ہے۔"
انہوں نے کیمپ میں روزانہ کی کارروائیوں کے انتظام میں مدد کرنے والے سکاؤٹس کے بارے میں مزید کہا، "وہ حجاج کی مدد اور تمام متعلقہ سرگرمیوں میں معاونت کرتے ہیں۔"
"اطمینان کا احساس"
حج آپریشنز میں پاکستان بوائے سکاؤٹس ایسوسی ایشن کا کردار چار عشروں سے زیادہ پرانا ہے۔
تجربہ کار سکاؤٹ رہنما راجہ ممتاز معظم نے عرب نیوز کو بتایا، "پاکستان بوائے سکاؤٹس ایسوسی ایشن کے اراکین ملک میں تقریباً سات حاجی کیمپوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ تنظیم 1980 سے یہاں موجود ہے جب اس وقت کے صدرِ پاکستان ضیاء الحق نے یہاں سکاؤٹس کو تعینات کیا تھا۔ اور میں 1997 سے یہاں خدمات انجام دے رہا ہوں۔"
معظم نے کہا کہ پاکستانی سکاؤٹس نے قبل ازیں سعودی عرب کے اندر بھی حجاج کی خدمت کی۔
"لیکن گذشتہ دو تین سالوں سے یہ عمل معطل ہے۔ امید ہے کہ مکہ اور مدینہ میں ہماری خدمات دوبارہ طلب کی جائیں گی۔"
کیمپ کے اندر کئی عمر رسیدہ زائرین بھی ہیں اور پہلی بار بیرونِ ملک سفر کر رہے ہیں جنہیں اکثر متعدد کاؤنٹرز اور محکموں میں پھیلے ہوئے طریقہ کار کو سمجھنے میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
روانگی سے پہلے حجاج کو گردن توڑ بخار، انفلوئنزا اور پولیو ویکسین لازمی لگائی جانی چاہیے جبکہ 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو کووڈ-19 بوسٹر شاٹس لینے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سعودی عرب جانے والی پروازوں میں سوار ہونے سے پہلے انہیں ٹکٹنگ، بینکنگ اور سفری دستاویزات کی رسمی کارروائیاں بھی مکمل کرنا ہوں گی۔
احمد جن کے دو چھوٹے بچے مظفرآباد میں گھر پر ہی رہتے ہیں، ان کے لیے یہ کام بہت مشکل لیکن بہت زیادہ معنی خیز ہے۔
انہوں نے کہا، "جس لمحے عازمین گیٹ سے داخل ہوتے ہیں تو اسی وقت سے ہم ان کی ویکسینیشن اور دیگر مراحل میں رہنمائی کرتے ہیں تاکہ انہیں کسی دشواری کا سامنا نہ ہو"۔
نیز کہا، "اگرچہ ہم بطور سکاؤٹ رضاکار کئی دوسری ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں لیکن حجاج کی خدمت کرنے سے ہمیں خاص طور پر بہت دلی اطمینان ملتا ہے۔"
-
وزارتِ حج کا مانیٹرنگ سینٹر فعال، 95 اشاریوں سے حجاج کی نگرانی
وزارتِ حج و عمرہ نے کہا ہے کہ حج سیزن کے دوران آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ...
مشرق وسطی -
راہِ زبیدہ: کوفہ سے مکہ تک حجاج کے لیے 27 تاریخی پڑاؤوں پر مشتمل راستہ
راہِ زبیدہ کا اسلامی تاریخ کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، جو صدیوں تک حجاج ...
مشرق وسطی -
وزارتِ صحت کا ''صحت ثون 4 '' پروگرام،حجاج کے لیے جدید طبی حل کی تیاری
سعودی وزارتِ صحت نے مسائل حل کرنے کے تیز رفتار اختراعی مقابلے ''صحت ثون 4''کے ...
مشرق وسطی