ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ پر اعتماد نہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ مذاکرات اب بھی ممکن ہیں۔
ریاستی صدارتی میڈیا آفس کے مطابق مسعود پزشکیان نے آج بروز منگل اپنے بیان میں کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو ممکن سمجھتا ہے، اگرچہ اس پر اعتماد کا فقدان ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ان تمام کامیابیوں کو سفارتی میدان میں مستحکم کرنے کی ضرورت ہے جو مسلح افواج نے میدانِ جنگ میں حاصل کی ہیں۔
اس ے قبل آج ہی کے روز ایرانی پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) کے اسپیکر اور سینیئر مذاکرات کار محمد باقر قاليباف نے امریکہ کو انتباہ جاری کیا جس میں انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کی جانب سے پیش کردہ 14 نکاتی تجویز میں شامل شرائط کو قبول کرے، بصورتِ دیگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کا یہ پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ امریکی تجویز پر ایرانی جواب کو مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ شام کہا تھا کہ 8 اپریل سے نافذ العمل نازک جنگ بندی اب وینٹی لیٹر پر ہے۔
ایران نے اپنے جواب میں جوہری معاملے یا آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیچھے ہٹنے یا رعایت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس کے جواب میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری محاصرہ ختم کرنے اور برسوں سے عائد پابندیوں کے تحت بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کی ضمانت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ تازہ ترین امریکی تجویز کی تفصیلات ابھی محدود ہیں، تاہم ذرائع نے پہلے بتایا تھا کہ اس میں ایک صفحے کی مفاہمت کی یاد داشت شامل ہے جس کا مقصد لڑائی کا خاتمہ اور 30 دنوں کے اندر جوہری پروگرام کے بارے میں بعد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنا ہے۔
واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں ایران کا اعلیٰ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ اب بھی اختلاف کا بنیادی نقطہ ہے۔ امریکہ اس مواد کو ملک سے باہر منتقل کرنے پر اصرار کر رہا ہے، جسے تہران نے مسترد کر دیا ہے۔ ایران نے ایٹمی توانائی کے پُر امن استعمال کے اپنے حق پر بھی اصرار کیا، تاہم کہا کہ افزودگی کی سطح پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران نے بحری تجارت کے اہم راستے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا تھا، جس نے عالمی منڈیوں کو پریشان کر دیا اور ایران کو دباؤ بڑھانے کا ایک اہم موقع فراہم کیا، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ کر رکھا ہے۔
-
ایران نے اب آبنائے ہرمز کو بہت زیادہ وسعت دے دی ہے: افسر پاسدارانِ انقلاب
اس کی نہ صرف چوڑائی بلکہ تزویری اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے
مشرق وسطی -
ایران میں پھانسیوں کی لہر جاری، مسلح بغاوت کے الزام میں ایک شخص کو سزائے موت
ایران نے منگل کو مسلح بغاوت کے مرتکب ایک شخص کو پھانسی دے دی، ایرانی عدلیہ نے ...
مشرق وسطی -
امریکی حملے کی صورت میں ایران کی 90 فیصد افزودگی کی دھمکی
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے مجوزہ منصوبے پر اتفاق ...
مشرق وسطی