امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام ) نے ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے یا وہاں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں پر نافذ مکمل ناکہ بندی کے تسلسل کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ اس کی افواج نے گزشتہ چار ہفتوں کے دوران امریکی اقدامات کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے درجنوں تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑ دیا ہے۔
Four weeks ago, CENTCOM began implementing the blockade against ships entering and exiting Iran’s ports. As of today, American forces have redirected 67 commercial vessels, allowed 15 supporting humanitarian aid to pass, and disabled 4 to ensure compliance.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) May 13, 2026
Earlier this week,… pic.twitter.com/Vfkucl0Mci
سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے 67 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا۔ انسانی امداد لے جانے والے 15 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی، اس کے علاوہ 4 جہازوں کو روک دیا گیا جن کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے ناکہ بندی کی ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا۔
سینٹ کام نے مزید کہا کہ اس کی افواج نے اس ہفتے کے شروع میں دو تجارتی جہازوں کو وائرلیس آلات کے ذریعے رابطے اور چھوٹے ہتھیاروں سے انتباہی فائرنگ کے بعد اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ سینٹ کام نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی کے نفاذ کے اقدامات اب بھی مکمل طور پر نافذ العمل ہیں۔
ایف ۔ 35 سٹیلتھ لڑاکا طیارہ
مزید برآں سینٹ کام نے کہا کہ امریکی فضائیہ کا ایک ایف۔ 35 اے سٹیلتھ لڑاکا طیارہ آبنائے ہرمز کے قریب علاقائی پانیوں کے اوپر گشت کر رہا ہے۔ اس نے واضح کیا کہ یہ لڑاکا طیارہ آواز کی رفتار سے تیز پرواز کرنے کی صلاحیت برقرار رکھتے ہوئے 18,000 پاؤنڈ تک گولہ بارود لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
A U.S. Air Force F-35A stealth fighter jet patrols over regional waters near the Strait of Hormuz. The F-35A can carry up to 18,000 pounds of ordnance while still flying at supersonic speeds. pic.twitter.com/VGVOPHmTFQ
— U.S. Central Command (@CENTCOM) May 13, 2026
ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے امریکہ نے سمندر میں تقریباً 20 بحری جہاز تعینات کیے ہیں اور انہیں ہزاروں فوجیوں اور سپاہیوں سے لیس کیا ہے۔
واشنگٹن نے \ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر سخت بحری ناکہ بندی بھی نافذ کر رکھی ہے جس سے تجارتی بحری جہازوں کے وہاں سے نکلنے یا داخل ہونے پر پابندی ہے۔ دوسری طرف امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے منگل کو کہا تھا کہ پینٹاگون کے پاس ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف کشیدگی بڑھانے کا منصوبہ موجود ہے۔