ایران جنگ

ایران کی مکمل ناکہ بندی جاری، ایف 35 طیارہ ہرمز کے اوپر پرواز کررہا: امریکہ

امریکی افواج نے 67 تجاری بحری جہازوں کا رخ موڑا، انسانی امداد لے جانے والے 15 کو گزرنے کی اجازت دی: سینٹ کام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام ) نے ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے یا وہاں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں پر نافذ مکمل ناکہ بندی کے تسلسل کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ اس کی افواج نے گزشتہ چار ہفتوں کے دوران امریکی اقدامات کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے درجنوں تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑ دیا ہے۔

سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے 67 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا۔ انسانی امداد لے جانے والے 15 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی، اس کے علاوہ 4 جہازوں کو روک دیا گیا جن کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے ناکہ بندی کی ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا۔

سینٹ کام نے مزید کہا کہ اس کی افواج نے اس ہفتے کے شروع میں دو تجارتی جہازوں کو وائرلیس آلات کے ذریعے رابطے اور چھوٹے ہتھیاروں سے انتباہی فائرنگ کے بعد اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ سینٹ کام نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی کے نفاذ کے اقدامات اب بھی مکمل طور پر نافذ العمل ہیں۔

ایف ۔ 35 سٹیلتھ لڑاکا طیارہ

مزید برآں سینٹ کام نے کہا کہ امریکی فضائیہ کا ایک ایف۔ 35 اے سٹیلتھ لڑاکا طیارہ آبنائے ہرمز کے قریب علاقائی پانیوں کے اوپر گشت کر رہا ہے۔ اس نے واضح کیا کہ یہ لڑاکا طیارہ آواز کی رفتار سے تیز پرواز کرنے کی صلاحیت برقرار رکھتے ہوئے 18,000 پاؤنڈ تک گولہ بارود لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے امریکہ نے سمندر میں تقریباً 20 بحری جہاز تعینات کیے ہیں اور انہیں ہزاروں فوجیوں اور سپاہیوں سے لیس کیا ہے۔

واشنگٹن نے \ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر سخت بحری ناکہ بندی بھی نافذ کر رکھی ہے جس سے تجارتی بحری جہازوں کے وہاں سے نکلنے یا داخل ہونے پر پابندی ہے۔ دوسری طرف امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے منگل کو کہا تھا کہ پینٹاگون کے پاس ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف کشیدگی بڑھانے کا منصوبہ موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں