سعودی عرب:حج سیزن میں ہلال احمرکاحج کےلیےبڑاطبی منصوبہ: 526مراکزصحت،7ایمبولینس طیارے فعال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب کے ادارے ہلال احمرنے سنہ 1447ھ کے حج سیزن کے لیے اپنے جدید آپریشنل پلان کو فعال کر دیا ہے، جس کے تحت مقدس مقامات اور ان کے گردونواح میں ایک وسیع زمینی اور فضائی طبی نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد قومی کوششوں کے تحت طبی تیاریوں کو بہتر بنانا اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کو یقینی بنانا ہے تاکہ لاکھوں حجاج کرام کو ان کے پورے سفر کے دوران مربوط طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔

ہلال احمر اتھارٹی کے ترجمان ڈاکٹر تیمور جان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آپریشنل پلان کا آغاز مملکت کے داخلی راستوں پر حجاج کے استقبال سے ہوتا ہے اور یہ مکہ مکرمہ و مقدس مقامات کے اندر ان کی نقل و حرکت کے تمام مراحل پر محیط ہے۔ یہ منصوبہ ہجوم کی کثافت اور نقل و حرکت کی نگرانی پر مبنی ہے۔

فوری رسائی کے لیے 526 طبی مراکز

انہوں نے وضاحت کی کہ اتھارٹی نے سٹریٹجک مقامات پر 526 طبی مراکز مختص کیے ہیں، جن میں مقدس دارالحکومت (مکہ مکرمہ) میں 70 مراکز، حرم مکی کے حدود میں 75، مشعر منیٰ میں 178 جبکہ عرفات اور مزدلفہ میں 203 طبی مراکز شامل ہیں۔ ان کا مقصد حادثات کی جگہ تک پہنچنے کے وقت کو کم کرنا اور طبی مداخلت کی کارکردگی کو بڑھانا ہے۔

اتھارٹی نے اپنے منصوبے کو 900 سے زائد مختلف طبی گاڑیوں کے بیڑے سے تقویت دی ہے، جس میں 305 ایمبولینس گاڑیاں جدید طبی نگہداشت اور تشویشناک کیسز کی منتقلی کے لیے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ فوری علاج شروع کرنے کے لیے 20 ریپڈ رسپانس گاڑیاں 'عبیہ' بھی بیڑے کا حصہ ہیں۔

اس نظام میں زیادہ ہجوم والے مقامات پر نقل و حرکت کے لیے 119 گولف کارٹس، رش والے راستوں پر تیز رسائی کے لیے 23 موٹر سائیکلیں اور لچکدار نقل و حرکت کے لیے 155 طبی سکوٹر شامل ہیں۔ علاوہ ازیں 200 الیکٹرک میڈیکل چیئرز 'رفیدہ'، فیلڈ مانیٹرنگ کے لیے 80 سائیکلیں اور تشویشناک کیسز کی فضائی منتقلی کے لیے 7 ایمبولینس طیارے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ بڑے حادثات اور کثیر تعداد میں زخمیوں سے نمٹنے کے لیے 9 جدید اور خصوصی گاڑیاں مختص کی گئی ہیں جو حج سیزن کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے منظور شدہ فیلڈ پلان کا حصہ ہیں۔

حرم کے اندر اسمارٹ طبی حل

انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی نے مسجد الحرام کے اندر نقل و حرکت کی نوعیت کے مطابق طبی ذرائع فراہم کیے ہیں، جن میں سب سے نمایاں الیکٹرک میڈیکل چیئرز 'رفیدہ' ہیں، جو پرہجوم راستوں میں مریضوں تک تیزی سے پہنچنے اور اطلاع ملتے ہی فوری طبی امداد فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

اس آپریشنل پلان پر عملدرآمد کے لیے 2771 سے زائد طبی عملہ اور صحت کے رضاکار مامور ہیں، جن میں 1771 ماہر طبی و آپریشنل عملہ اور 1000 تربیت یافتہ طبی رضاکار فیلڈ ٹیموں کی مدد کے لیے شامل ہیں۔

اس نظام میں میڈیکل کنٹرول کے 42 ڈاکٹرز، 1533 طبی خدمات فراہم کرنے والے اور 196 میڈیکل ڈسپچ ماہرین شامل ہیں، جو کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز کے ساتھ مربوط ہو کر کام کر رہے ہیں تاکہ طبی فیصلے فوری طور پر لیے جا سکیں اور حجاج کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو بلند کیا جا سکے۔

نجی شعبے کا تعاون اور مربوط آپریشنل نظام

اس منصوبے میں نجی شعبے کی شرکت بھی دیکھی گئی ہے، جس کے تحت مقدس مقامات پر فیلڈ رسپانس سسٹم کی مدد کے لیے 264 ایمبولینس یونٹس اور 725 پیادہ طبی یونٹس چلائے جا رہے ہیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ طبی خدمات کا انتظام ایک مربوط آپریشنل ٹریک کے تحت کیا جاتا ہے، جس کا آغاز اطلاع کی وصولی اور حالت کے طبی جائزے سے ہوتا ہے، جس کے بعد فیلڈ ٹیموں کو روانہ کیا جاتا ہے اور موقع پر علاج یا منظور شدہ خصوصی راستوں کے ذریعے طبی مراکز منتقلی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز چوبیس گھنٹے فیلڈ انڈیکیٹرز کی نگرانی کرتے ہیں، جس سے وسائل کی موثر تقسیم اور حج سیزن کے دوران آپریشنل تیاریوں کی سطح کو بلند کرنے میں مدد ملتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں