بارسلونا کے فٹ بال سٹار لامین یمال نےفلسطینی پرچم لہرا دیا،اسرائیلی وزیر کی طرف سے تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے ہسپانوی لیگ ٹائٹل جیتنے کی تقریبات کے دوران فلسطینی پرچم لہرانے پر بارسلونا کے نوعمر سٹار لامین یمال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل نفرت کو ہوا دیتا ہے۔

اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو ایکس پر لکھا، "لامین یمال نے اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیز عمل کیا جبکہ ہمارے سپاہی دہشت گرد تنظیم حماس سے لڑ رہے ہیں جس نے سات اکتوبر (2023) کو یہودی بچوں، عورتوں اور بزرگوں کا قتلِ عام اور عصمت دری کی اور انہیں جلایا۔"

اٹھارہ سالہ یمال نے پیر کو شہر میں بارسلونا ٹیم کی فتح کی خوشی میں پریڈ کے دوران ایک کھلی بس پر فلسطینی پرچم لہرایا۔ مقامی حکام نے بتایا کہ گذشتہ روز لیگ ٹائٹل جیتنے کا جشن منانے کے لیے پریڈ میں تقریباً 750,000 لوگ شریک ہوئے۔

یمال جو مسلم ہیں، نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر فلسطینی پرچم کے ساتھ اپنی تصاویر پوسٹ کیں۔

سپین کی حکومت اور اس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کرتا رہا ہے جس نے 2023 میں حماس کے حملے کے جواب میں غزہ میں دسیوں ہزار فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔

غزہ میں جنگ کے انسانی نقصان پر اسرائیل کے خلاف عالمی ردِ عمل سامنے آیا جو اب کھیل اور ثقافت کے شعبوں تک پھیل گیا ہے۔ فٹ بال، سائیکلنگ اور باسکٹ بال میں احتجاج دیکھنے کو ملا ہے۔ گذشتہ سال کے ہسپانوی ویلٹا کو مظاہرین کی طرف سے بار بار خلل کا سامنا رہا جو اسرائیلی حمایت یافتہ سائیکلنگ ٹیم کی شرکت سے خفا تھے۔

سپین اُن پانچ ممالک میں بھی شامل ہے جو اسرائیل کی شمولیت کے خلاف احتجاجاً اس سال کے مقابلۂ موسیقی یوروویژن کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

یمال اگلے ماہ شمالی امریکہ میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ میں سپین کی جانب سے کھیلیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں