مصنوعی ذہانت کے ذریعے نفرتی مواد کی تیز تر تیاری و ترسیل کے ایشو پرڈاکٹرمحمد کا اظہار خیال
عالمی رابطہ اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی عام ہونے کے تیزی سے پھیلنے والی نفرت پر مبنی مہمات اور مواد کے سوشل میڈیا پر آنے کے اثرات ومضمرات کے موضوع پر خطاب کیا ہے اور ماہرین کو اس جانب متوجہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ خطاب نیو یارک یونیورسٹی کی میزبانی میں اسی موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے کیا۔
کانفرنس میں ماہرین، پروفیسرز اور دانشورں نے شرکت کی۔ تاکہ ان مسائل کا جائزہ لیا جا سکے جو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے نفرت کے فروغ سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ جس سرعت سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانی اپنی سوچ کو تصویروں، ویڈیوز اور متن کی شکل دینے میں مدد لے رہے وہ ایک بڑے چیلنج کا روپ دھار سکتی ہے۔
کانفرنس میں شرکت کرنے والے شرکاء نے روبوٹس کے ذریعے بھی پھیلائی جانے والی نفرت پر مبنی تقاریر اور مواد پر بات کی کہ یہ روبوٹس بھی گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ جیسا کہ 'ڈیپ فیک ٹیکنالوجی' آوازوں اور تصویروں پر اثر انداز ہو کر نئے نئے چیلنجز کا باعث بن رہی ہے۔
ڈاکٹر العیسیٰ نے اس سلسلے میں سماجی و مذہبی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا اور سماجی و مذہبی حوالوں سے کام کرنے والے اداروں کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا کہا۔ تاکہ چیلنج کا مدلل انداز میں مستند حوالوں سے جواب دیا جا سکے اور نفرت پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا کا ایلگورتھم اس قسم کی نفرت پر مبنی تقاریر، تصاویر اور ویڈیوز کو تیزی سے لوگوں تک پہنچانے میں ایک خطرناک کردار ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں اپنے مثبت و منفی تبصروں کی وجہ سے سوشل نیٹ ورکس کے ایلگورتھم میں تیزی سے جگہ بنا لیتی ہیں۔
انہوں نے ان امور کے قانونی مضمرات اور پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا۔ ڈاکٹر العیسیٰ کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال نفرتی تقریروں کے فروغ کا باعث بن رہا ہے اور آزادی اظہار کو ایک توازن میں رکھنے کی سوچ پیدا ہو رہی ہے۔