پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے انعقاد کے لیے پُر امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ سے بھرپور بیانات اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت لہجے والی دھمکیوں کے باوجود، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے دور کے انعقاد کے امکان پر اپنی امید کا اظہار کیا ہے۔

شہباز شریف جن کا ملک مہینوں سے ثالثی کی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے، انھوں نے آج پیر کے روز کہا کہ "ہم ایران اور امریکہ کے درمیان پائے دار امن کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔" انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلام آباد دونوں فریقوں کے درمیان نئے دور کے انعقاد کے لیے پُر امید ہے۔

اس سے قبل آج ایک با خبر پاکستانی ذریعے کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ان کے ملک نے اتوار کی رات ترمیم شدہ ایرانی تجویز امریکی فریق کے حوالے کر دی۔ یہ بات روئٹرز نیوز ایجنسی نے بتائی۔ ذرائع نے اشارہ کیا کہ "دونوں ملک اپنی شرائط کو تبدیل کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔"

دوسری طرف ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ تہران نے اپنی حالیہ تجویز پر امریکی تحفظات کے سلسلے میں اپنا جواب حوالے کر دیا ہے۔

ایک ایرانی ذریعے نے انکشاف کیا کہ جو ایرانی متن پاکستان کے حوالے کیا گیا ہے، اس میں جنگ کے خاتمے اور امریکہ کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ ایرانی تیل پر سے پابندیاں ہٹانے پر راضی ہو گیا ہے۔ یہ بات تسنیم نیوز ایجنسی نے بتائی۔

واضح رہے کہ حالیہ ایرانی تجویز، جسے واشنگٹن نے مسترد کر دیا تھا، اس میں تہران پر عائد تمام پابندیاں ہٹانے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک منجمد فنڈز اور اثاثوں کی رہائی کی شرط رکھی گئی تھی۔ اس میں یورینیم کی افزودگی کے ایران کے حق کو تسلیم کرنا بھی شامل تھا، قطع نظر اس کے کہ افزودگی کو برسوں کے لیے معطل کرنے کا معاملہ ہو، جو کہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر لگتا ہے کہ ایرانی جانب نے لچک دکھائی ہے۔

تہران نے اعلیٰ افزودہ یورینیم کو امریکہ منتقل کرنے سے انکار کر دیا اور ہرمز میں صورت حال کو اس جنگ سے پہلے کی حالت پر واپس نہ لے جانے پر اصرار کیا جو 28 فروری کو اس کے اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان بھڑک اٹھی تھی۔ ساتھ ہی اپنی سرزمین کو نشانہ بنانے والے حملوں کے معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔

اس کے مقابلے میں واشنگٹن نے ایرانی سرزمین پر بم باری سے ہونے والے نقصانات کے لیے کسی بھی قسم کے معاوضے کی ادائیگی سے انکار کر دیا اور ایران کے اندر سے 400 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم منتقل کرنے پر اصرار کیا۔ ساتھ ہی ایرانی جوہری تنصیبات میں سے صرف ایک گروپ کو چلانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز میں سے 25٪ سے زیادہ کی رہائی کو بھی مسترد کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں