فضائی تصاویر میں ایرانی جزیرہ خارک کے قریب تیل بردار بحری جہازوں کا غیر معمولی رش

امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایرانی بندرگاہوں پر تیل کی برآمدات معطل، اسٹوریج ٹینک بھرنے سے پیداوری عمل سست پڑ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

گذشتہ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر جاری امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران سیٹلائٹ تصاویر نے ایران کے سب سے بڑے آئل ایکسپورٹ ٹرمینل کے قریب لگ بھگ 23 آئل ٹینکرز کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے، بلومبرگ نیوز کی پیر کی رپورٹ کے مطابق ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک جزیرہ خارک کے گرد بحری جہازوں کا یہ سب سے بڑا ھجوم ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ آئل ٹینکرز جزیرہ خارک کے گرد انتظار گاہوں میں لنگر انداز ہیں یا خام تیل اور ایل پی جی کی لوڈنگ کے لیے مخصوص برتھوں پر موجود ہیں۔ یہ تصاویر 16 مئی کو سیٹلائٹ کے ذریعے لی گئیں جن کا بلومبرگ نیوز نے معائنہ کیا ہے اور تہران کی پالیسیوں پر نظر رکھنے والے ایک امریکی غیر منافع بخش مشاورتی گروپ 'یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران' کے تجزیے نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

یہ تعداد 13 اپریل کو موجود صرف چار ٹینکرز کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، جو خلیج عمان میں بحری جہازوں کی نگرانی اور انہیں روکنے کے لیے امریکی جنگی جہازوں کے جمع ہونے سے عین قبل وہاں موجود تھے۔

اس سلسلے میں تنظیم کے مشیر چارلی براؤن نے کہا کہ جہاز جزیرے کے گرد انتظار گاہوں میں جمع ہو رہے ہیں، جو ایرانی خام تیل کی برآمدی نظام میں بڑھتی ہوئی تاخیر اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرتا ہے۔



جنوب مشرقی کونے میں بحری جہاز کی موجودگی

اس کے علاوہ 16 مئی کی گنتی میں ایک ایسا جہاز بھی شامل ہے جو جزیرہ خارک کے جنوب مشرقی کونے میں لنگر انداز نظر آتا ہے۔ یہ وہ ٹرمینل ہے جو بنیادی طور پر مائع پٹرولیم گیس یعنی ایل پی جی کی برآمد کے لیے استعمال ہوتا ہے جو عام طور پر کھانا پکانے کے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ جبکہ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ خام تیل کی لوڈنگ کے برتھ خالی پڑے ہیں۔

تاہم جنگ کے آغاز کے بعد سے اس جگہ پر دیکھا جانے والا یہ اپنی نوعیت کا دوسرا جہاز ہے۔ جہازوں کی ٹریکنگ کے ڈیٹا اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق 'نیڈی' نامی جہاز کو اپریل کے اوائل میں اس تنصیب پر دیکھا گیا تھا، جس کے بعد مئی کے اوائل میں وہ بھارت کے مغربی ساحل کے قریب سمندر میں ظاہر ہوا تھا۔

بلومبرگ کے مطابق برآمدات معطل ہونے کی وجہ سے جزیرہ خارک پر سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں جس کے نتیجے میں تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات مکمل طور پر بھر چکی ہیں۔ لوڈ کیے گئے ٹینکرز کے اس علاقے سے نہ نکل پانے اور خام تیل لوڈ کرنے کے لیے نئے اور خالی جہازوں کے داخل نہ ہونے کی وجہ سے ایران اپنی تیل کی پیداوار کو سست کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

شدید بحری ناکہ بندی

واضح رہے کہ ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکہ نے سمندر میں لگ بھگ 20 جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں اور خطے میں ہزاروں فوجیوں اور سپاہیوں کی صورت میں انہیں مزید تقویت دی ہے۔

واشنگٹن نے گذشتہ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی شدید بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے اور تجارتی جہازوں کو وہاں آنے یا وہاں سے نکلنے سے روک دیا ہے۔

جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔

دوسری جانب ایران نے ایٹمی فائل پر کسی بھی مذاکرات سے قبل اپنی بندرگاہوں سے ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے، اور عملی طور پر گذشتہ فروری سے تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں