مملکت کے سکیورٹی اور تحفظ کے لیے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کریں گے:سعودی کابینہ

شاہ سلمان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں خلیجی وزرائے داخلہ کے ہنگامی اجلاس کے فیصلوں کی حمایت کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب کی کابینہ نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کے دوران اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مملکت سعودی عرب اپنی سکیورٹی کے تحفظ، استحکام کو برقرار رکھنے اور اپنے شہریوں اور اپنی سرزمین پر مقیم افراد کی سلامتی کے لیے کوئی بھی اقدام اٹھانے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

کابینہ نے وطن کے دفاع اور اس کے اثاثوں و صلاحیتوں کے تحفظ میں مسلح افواج کی اعلیٰ صلاحیتوں کو بھی سراہا۔

اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے اس سال سنہ 1447ھ کے حج سیزن کے لیے تیار کیے گئے منصوبوں پر عمل درآمد کے مراحل کا جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ ہی ضیوف الرحمن پروگرام کے فریم ورک کے تحت ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے نتائج کو دیکھا گیا۔ کابینہ نے مکہ مکرمہ، مشاعر مقدسہ اور مدینہ منورہ میں حجاج کرام کو فراہم کی جانے والی تمام خدمات کو بہتر بنانے اور انسانی، تکنیکی اور تنظیمی وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے حج کے پورے نظام کی کوششوں کا جائزہ لیا تاکہ آپریشنل تیاریوں کی کارکردگی کو بڑھایا جا سکے اور ملک کے اندر اور باہر سے آنے والے عازمین حج کو اعلیٰ درجے کا آرام اور اطمینان فراہم کیا جا سکے۔

اس تناظر میں کابینہ نے وزارت داخلہ اور دیگر سرکاری اداروں کی کوششوں اور حج کی اعلیٰ کمیٹی کی نگرانی کو سراہا جس کا مقصد بیت اللہ کے حجاج کرام کے لیے ان کے ممالک سے آمد کو آسان بنانا ہے۔ اس سلسلے میں لگاتار آٹھویں سال "مکہ روٹ" اقدام پر عمل درآمد جاری ہے جس سے اب تک 12 لاکھ سے زائد حجاج کرام مستفید ہو چکے ہیں۔ اس اقدام کا دائرہ کار مسلسل وسیع کیا جا رہا ہے جس میں اب تک 10 ممالک اور 17 بین الاقوامی فضائی و زمینی راستے شامل ہو چکے ہیں جو کہ حجاج کرام کو بہترین خدمات فراہم کرنے کے مملکت کے عزائم کے عین مطابق ہے۔

اسی فریم ورک کے تحت کابینہ نے سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد کے ساتھ ہونے والے دو ٹیلی فونک رابطوں کے مندرجات کا جائزہ لیا۔ ان گفتگوؤں کے دوران مشترکہ تعاون کے شعبوں پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ علاقائی پیش رفت اور خطے کی سکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں پر بات چیت کی گئی تھی۔

دوسری جانب سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے اجلاس کے بعد سعودی پریس ایجنسی کو دیے گئے اپنے بیان میں وضاحت کی کہ کابینہ نے اس بات پر دوبارہ زور دیا ہے کہ مملکت سعودی عرب اپنی سکیورٹی کے تحفظ، امن و امان برقرار رکھنے اور اپنے شہریوں و مقیم افراد کی سلامتی کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے میں کبھی نرمی نہیں برتے گی۔ انہوں نے اس سلسلے میں وطن کے دفاع اور اس کے حاصل کردہ فوائد و وسائل کی حفاظت کے لیے مسلح افواج کی اعلیٰ صلاحیتوں کی تعریف کی۔

کابینہ نے ریاض میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے وزرائے داخلہ کے ہنگامی اجلاس کے نتائج کی حمایت کا اظہار کیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ خلیج کی سکیورٹی ایک ناقابل تقسیم اکائی ہے اور خطے میں موجودہ چیلنجوں اور پیش رفت کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ روابط کو دوگنا کرنے کی اہمیت پر اصرار کیا گیا تھا۔

کابینہ نے تصدیق کی کہ سعودی ہسپانوی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کا قیام دونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے اور ٹھوس نتائج کے حامل مشترکہ اقدامات و منصوبوں کے ذریعے امید افزا اقتصادی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے افق کو وسعت دینے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

مقامی معاملات کے حوالے سے کابینہ نے "ریاض میٹر" منصوبے کے مرکزی اسٹیشنوں کے مکمل آپریشن کو دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں جاری تیز رفتار ترقی کا تسلسل قرار دیا۔ یہ اقدام ایک مربوط شہری بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے راستے کی عکاسی کرتا ہے جو زندگی کے معیار کو بہتر بنانے، نقل و حمل کے ذرائع کو متنوع بنانے، پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار بڑھانے اور اس کی کارکردگی کو بلند کرنے میں مددگار ثابت ہوگا جو کہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے۔

کابینہ نے بین الاقوامی سائنس اور انجینئرنگ میلے "آئیسف 2026" کے مقابلوں میں مملکت کے طلبہ اور طالبات کی جانب سے 24 انعامات حاصل کرنے کو بھی سراہا جنہوں نے اس طرح متعدد کامیابیاں درج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے جو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر جدت طرازی اور سائنسی فضیلت کے شعبوں میں قیادت کی عکاسی کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں