امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کو کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے حل تلاش کرنے کی پاکستانی کوششیں جاری ہیں۔ اسی دوران قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبد الرحمن بن جاسم آل ثانی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دباؤ کے لیے بطور کارڈ استعمال کرنا بحران کو مزید گہرا کرنے کا سبب بنے گا۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی ایک راسخ اصول ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے علاوہ انہوں نے پائیدار امن کے حصول کے لیے ثالثی کی کوششوں کا مثبت جواب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دوحہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
تیز رفتار پاکستانی کوششیں
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اب بھی تہران میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے گذشتہ روز دیر رات تک عباس عراقچی سے ملاقات کی تاکہ امن کے حصول کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
العربیہ/الحدث کو ایک اعلیٰ ذریعے سے ملنے والی معلومات کے مطابق توقع ہے کہ عاصم منیر آج پاسداران انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ جمود کو توڑا جا سکے اور رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران میڈیا میں ایسی خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سکیورٹی ٹیم کے ساتھ ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔
تاہم امریکی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور ٹرمپ مذاکرات کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ تہران اب بھی اعلیٰ درجہ کی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل نہ کرنے کے موقف پر قائم ہے اور مطالبہ کر رہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول اور انتظامیہ برقرار رہے، اس کے علاوہ امریکی پابندیاں ختم کی جائیں اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں پر سے پابندی ہٹائی جائے۔
دوسری جانب امریکی موقف اب بھی یہی ہے کہ افزودہ یورینیم کو ایران کے اندر رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی ہرمز میں جہاز رانی پر کوئی پابندی قبول کی جائے گی، جو کہ ایک ایسا اہم ترین آبی راستہ ہے جہاں سے دنیا بھر کے تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔