اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی ایک بار پھر خلاف ورزی کرتے ہوئے کم از کم دو فلسطینی جان سے گئے اور بارہ کو زخمی کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے یہ بمباری ایک ایسے کیفے پر کی جس میں کافی تعداد میں فلسطینی جمع تھے۔
اسرائیلی فوج جسے اس کے وزیر اعطم نیتن یاہو نے پچھلے ہفتے ہی غزہ پر اپنا قبضہ 60 فیصد سے بھی بڑھاتے ہوئے 70 فیصد کرنے کا حکم دیا ہے۔ آئے روز جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کرتی رہتی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس بمباری کے بارے میں ابھی کوئی بیان جاری کیا ہے نہ کوئی تبصرہ کیا ہے۔
یاد رہے یہ جنگ بندی معاہدہ اکتوبر 2025 میں صدر ٹرمپ کی مدد سے ممکن ہوا تھا، مگر بعد ازاں اس معاہدے کی خلاف بھی جاری ہیں اور امریکہ خود اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ آور ہو چکا ہے۔
10 اکتوبر 2025 سے نافز العمل سمجھے جانے والے اس جنگ بندی معاہدے کے باوجود اب تک لگ بھگ ایک ہزار فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے ایسی ہی کارروائیوں میں قتل کر دیا ہے۔
اگرچہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلا کے ساتھ بین الاقوامی استحکام فورس کو کنٹرول سنبھالنا تھا۔ لیکن ابھی اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے حماس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے بھی اسرائیل کے چار فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔