ایرانی تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اس عمل کی مذمت کی جسے انہوں نے جنگ بندی پر امریکہ کی عدم تعمیل قرار دیا ہے۔
قالیباف نے آج پیر کے روز "ایکس" پر ایک پوسٹ میں لکھا "سمندری ناکہ بندی اور نام نہاد صہیونی نظام کی طرف سے لبنان میں جنگی جرائم میں اضافہ... جنگ بندی پر امریکہ کی عدم تعمیل کا واضح ثبوت ہے۔"
انہوں نے مزید متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہر راستے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور جب ادائی کا وقت آئے گا تو حساب چکایا جائے گا۔ آخر میں صورت حال مکمل طور پر واضح ہو جائے گی۔"
The naval blockade and escalation of war crimes in Lebanon by the genocidal Zionist regime are clear evidence of U.S. noncompliance with the ceasefire.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) June 1, 2026
Every choice has a price, and the bill comes due. It will all fall into place.
اس سے قبل آج امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ امریکی فوج نے ہفتے کے شروع میں دو ایرانی جزیروں پر ریڈار سائٹس اور ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر فضائی حملے کیے ہیں۔ سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے "ایران کی جانب سے جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے جن میں بین الاقوامی پانیوں پر پرواز کرنے والے ایک امریکی ایم کیو-1 طیارے کو مار گرانا شامل تھا۔"
قالیباف کا یہ موقف لبنان میں اسرائیلی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے جو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اعلان کے بعد ہوا۔ اس اعلان میں انھوں نے فوج کو بیروت کے جنوبی مضافات میں اہداف کو نشانہ بنانے کا حکم دیا اور گزشتہ اپریل سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار حزب اللہ کو ٹھہرایا۔ اس جنگ بندی کی پاسداری کسی بھی فریق نے نہیں کی۔
اس دوران اسرائیلی چینل 14 کے مطابق با خبر اسرائیلی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو کے احکامات امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد دیے گئے ہیں۔
ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران اپنی بندرگاہوں پر 13 اپریل سے جاری ناکہ بندی ختم کرنے پر اصرار کیا ہے۔
ایران نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی فریق کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی شامل ہونی چاہیے، جہاں اس کے اتحادی حزب اللہ نے سابق ایرانی رہبر علی خامنہ ای کے قتل کے جواب میں دو مارچ کو اسرائیل کے خلاف محاذ کھولا تھا۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ان کے ملک اور تہران کے درمیان مذاکرات "درست سمت" میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران معاہدہ کرنے کے لیے انتہائی کوشاں ہے۔
-
مضبوط ضمانتوں کے بغیر واشنگٹن کے ساتھ کوئی معاہدہ قبول نہیں کریں گے: قالیباف
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران ...
مشرق وسطی -
امریکہ ایران کے خلاف ایک نئی جنگ شروع کرنا چاہتا ہے : ایرانی سپیکر باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ ماہ اپریل میں ہونے والے مذاکراتی وفد ...
مشرق وسطی -
امریکہ ایران کے خلاف "ایک نئی جنگ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے" ... قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مطابق ایرانی افواج نے اپنی صلاحیتوں کی ازسرنو تعمیر ...
بين الاقوامى