سعودی حکام نے بتایا ہے کہ حج سیزن 2026 کے اختتام پذیر ہوتے ہی مقدس مقامات کو نئے سرے سے معتمرین کے لیے کھولنے اور اگلے حج سیزن کی تیاریوں کے لیے خالی کرنے کے لیے فوری طور پر کام شروع کر دیا گیا ہے
حج سیزن 2026 کے اختتام کے ساتھ ہی مکہ اور منیٰ وغیرہ سے حجاج کرام کی اپنے ملکوں کو واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ یہ عمل شروع ہونے کے ساتھ ہی سعودی عرب کے حکام اور مختلف ادارے مقدس مقامات کا نئے سرے سے معائنہ کر کے نئی سرگرمیوں کے لیے ان جگہوں کو تیار کرنے کا کام شروع کر دیتے ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق حج 2026 اس حوالے سے ایک بہت بڑا حج آپریشن تھا کہ یہ حج علاقے میں قدرے خراب حالات میں انعقاد پذیر ہوا مگر اس کے باوجود پچھلے سال کے مقابلے میں رواں سال زیادہ مسلمان حج کی ادائیگی کے لیے آئے۔
اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 1707301 افراد نے حج ادا کیا۔ جو پچھلے سال کے مقابلے میں 2.04 فیصد زیادہ لوگ تھے۔ ان میں سے 1546655 افراد دیگر ملکوں سے ادائیگئی حج کے لیے آئے۔ ہوائی سفر کر کے 1485729 عازمین حج سعودی عرب پہنچے۔
مقامی شہریوں یا سعودی عرب میں بسلسلہ روزگار مقیم 160646 افراد نے فریضہ حج ادا کیا ہے۔ سعودی وزیر حج و عمرہ نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کو اس کامیاب حج آپریشن کے مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے۔
ادھر اتوار کے روز سے حکام نے از سر نو مقدس مقامات کا جائزہ لیا اور مختلف ٹیمیں معائنے کے لیے پہنچیں۔ تاکہ اگر کسی جگہ رہائشی سہولیات میں کسی مرمت کی ضرورت ہو تو اس کا جائزہ لیا جائے اور اگر تازہ تجربے کی روشنی میں رہائشی منصوبہ برائے حج 2027 کے لیے کوئی ترمیم و تبدیلی کرنی پڑے تو اس کی تیاری کی جائے۔ معائنے کا یہ عمل منیٰ سے شروع کیا گیا ہے۔
سعودی ہلال احمر سوسائٹی کے ایک نمائندے ٹی جے نے بتایا ہے کہ حکام حج آپریشن کے اختتام پذیر ہوتے ہی ان مقدس مقامات کو اگلی عباداتی سرگرمیوں کے لیے تیار کرنے کا سلسلہ اور تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح عمرہ کی ادائیگی کے لیے بھی جلد ہی معتمرین کو آنے کی اجازت مل سکے گی۔
حج کے دنوں میں دو طرح کے ہنگامی مراکز قائم کیےگئے تھے۔ نیز لوہے سے بنے مستقل ڈھانچوں پر مبنی رہائشی سہولیات بھی تیار کی گئی تھیں۔ اسی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جا سکنے والے خیمے بھی شامل کیے گئے تھے۔ ان میں جو یونٹس مستقل ضرورت کے تحت بنائے جاتے ہیں انہیں بند کر دیا جاتا ہے جبکہ عارضی یونٹس کو ختم کر دیا جاتا ہے۔
ان جگہوں کی اس حج آپریشن کے مکمل ہونے کے ساتھ ہی صفائی ستھرائی کا مرحلہ بھی مکمل کیا جاتا ہے تاکہ کسی قسم کی آلائش بھی بعد ازاں آنے والے افراد کے لیے تکلیف دہ نہ ٹھہرے۔ اس سلسلے میں ماحولیاتی اورحفظان صحت کے ماہرین کی ٹیمیں بھی انوالو ہوتی ہیں۔
یہی عمل مکہ میں بھی کیا جاتا ہے تاکہ مقدس مقامات نئے آنے والے معتمرین اور زائرین کے لیے مکمل تیار ہوں اور انہیں بھی بہترین سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
اس سلسلے میں حکام کے ساتھ مرمت کے شعبے کی کمپنیاں بھی جڑ جاتی ہیں اور تکنیکی مدد فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی بروئے کار رہتی ہیں۔ اس پوسٹ حج آپریشن میں سڑکوں کا معائنہ کر کے ان کی بھی ضروری تعمیر و مرمت کا اہتمام کرنا منصوبے میں شامل ہوتا ہے۔ نیز سرنگوں، فراہمی آب کے نظام ، بجلی کی فراہمی کی سہولتوں اور کولنگ انفراسٹرکچر کا بھی مکمل جائزہ لیا جاتا ہے۔
کڈانا ڈویلپمنٹ کمپنی مکہ سٹی کے لیے شاہی کمیشن کا انتظامی بازو ہے۔ یہ کمپنی مقدس مقامات کو نئے سرے سے زائرین کے لیے کھولنے کے امور کو نمٹاتا ہے۔ اس کے ذمہ مختلف مقامات کا معائنہ ، مرمت طلب جگہوں کا جائزہ لینا اور ان کی بہترین حالت میں بحالی کرنا ہوتا ہے۔
یہ سارے امور دو مختلف مراحل کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔ پہلا مرحلہ مستقل انفراسٹرکچرز کے حوالے سے ہوتا ہے جبکہ دوسرا مرحلہ عارضی سہولتوں کی فراہمی سے متعلق ہے۔
کڈانا کمپنی مرمت سے متعلق امور کو نمٹاتی ہے۔ اس کا یہ کام کئی دائروں میں پھیلا ہوتا ہے۔ حج آپریشن کے دنوں سے لے کر پوسٹ حج آپریشن کے لیے مرمتوں اور ترمیم کا کام بھی اسی کے ذمے ہے۔