ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علاقائی پیش رفت اور جنگ بندی سے متعلق امور پر جاری مشاورت کے فریم ورک کے تحت پاکستانی فوج کے سربراہ اور پاکستانی وزیر خارجہ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بات چیت میں خطے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے ساتھ ساتھ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور تصادم کے دائرے کو وسیع ہونے سے روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیان کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستانی حکام کے ساتھ علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے کے ضامن طریقوں اور موجودہ سکیورٹی چیلنجز کے سائے میں خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کے تسلسل کی اہمیت پر گفتگو کی۔
پاکستان کا بڑھتا کردار
یہ رابطے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں کے درمیان ثالثی کی کوششوں اور بالواسطہ رابطوں میں شامل ایک فریق کے طور پر ابھرا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستان کا یہ کردار واضح ہوکر سامنے آیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس نے اس سے قبل کہا تھا کہ اسلام آباد نے کشیدگی کم کرنے اور خطے کو وسیع تر تصادم میں گرنے سے بچانے کی کوششوں کے ضمن میں علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کے درمیان پیغامات کی منتقلی میں حصہ لیا ہے۔
پاکستان نے گزشتہ مہینوں کے دوران مختلف فریقوں کے ساتھ متوازن روابط برقرار رکھے اور ایران، خلیجی ملکوں اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات سے فائدہ اٹھایا جس نے اسے امن سے متعلق مسائل میں متحرک ہونے کا ایک موقع فراہم کردیا ہے۔
مسلسل سفارتی سرگرمیاں
عباس عراقچی کے یہ رابطے سفارتی سرگرمیوں کے اس سلسلے کا حصہ ہیں جو تہران کئی ہفتوں سے متعدد علاقائی دارالحکومتوں کے ساتھ انجام دے رہا ہے جو جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور خطے میں دیکھی جانے والی فوجی کشیدگی کے اثرات پر قابو پانے کی کوششوں کے متوازی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ایرانی مشاورت میں تیزی اسلام آباد کی جانب سے سیاسی کوششوں کی حمایت میں ادا کیے جانے والے کردار کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ خاص طور پر خطے میں نازک امن کو برقرار رکھنے کے مقصد سے جاری علاقائی اور بین الاقوامی رابطوں کے تسلسل کے ساتھ پاکستان کا کردار مزید اہم ہوجاتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ان رابطوں کے نتائج یا کسی بھی ایسے عملی اقدامات کے بارے میں مزید تفصیلات ظاہر نہیں کیں جن پر اتفاق ہوا ہو تاہم اس نے جنگ بندی کی کوششوں کی حمایت اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے۔