عراق سے تعلق رکھنے والی دو ایسی عسکری ملیشیاؤں نے اپنے ہتھیار عراقی حکام کے حوالے کرنا شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے اور یہ عراق میں ایرانی 'پراکسیز' کے ذمرے میں آتی ہیں۔ عراق میں نئی حکومت آنے کے بعد یہ ایک بڑی پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔
دونوں ایرانی حمایت یافتہ گروپوں نے منگل کے روز اس امر کا باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار عراقی حکام کے حوالے کرنے جارہی ہیں۔ ان دونوں گروپوں میں سے ایک گروپ کو عصائب اہل الحق نے کہا ہے کہ اس نے ہتھیاروں کی حکومت کو حوالگی کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ تاکہ عراقی افواج کے کمانڈر انچیف ساتھ اس سلسلے میں ' کو آرڈی نیٹ' کیا جا سکے۔
دوسرے ایرانی حمایت یافتہ گروپ کا نام امام علی بریگیڈ سامنے آیا ہے۔ جس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی اپنے ہتھیار عراق حکام کے سپرد کر رہا ہے۔ اس گروپ نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ' ہمارے خیال میں اب وقت آگیا ہے اپنے ملک کو ایک مضبوط ملک کے ساتھ اور مکمل خود مختاری کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ اس لیے اب ہتھیار صرف ریاست کے پاس رہنےچاہییں کہ ریاستی ادارے مضبوط کیے جا سکیں۔
ایک ہفتہ پہلے معروف شیعہ رہنما مقتدٰٰی الصدر نے اعلان کیا تھا کہ ان کی سرایا السلام ملیشیا ریاستی فوج میں ضم ہو جائے گی۔ جبکہ اسے سیاسی تحریک سے بھی الگ کیا جارہا ہے۔ سرایا السلام ' امن بریگیڈ ' کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔