واشنگٹن کی طرف سے ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس پر نئی پابندیاں عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ نے نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جن کا مقصد ایرانی تیل کی اسمگلنگ اور غیر قانونی مالیاتی لین دین میں ملوث نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔ واشنگٹن نے زور دیا ہے کہ ایران کے مالیاتی وسائل کو کم کرنے کے لیے اس کے خلاف "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی جاری رہے گی۔

امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان پابندیوں کا ہدف ایک ایسا "پیچیدہ" نیٹ ورک ہے جس نے متحدہ عرب امارات اور چین میں فرنٹ (جعلی) کمپنیاں قائم کر کے جنوبی اور مشرقی ایشیا کی مارکیٹوں میں سینکڑوں ملین ڈالر مالیت کی ایرانی ایل پی جی (لیکویفائیڈ پٹرولیم گیس) اسمگل کی ہے۔ اس کام کے لیے ایران کے "شیڈو فلیٹ" (خفیہ بحری بیڑے) کو استعمال کیا گیا تاکہ کھیپ کے اصل ماخذ کو چھپایا جا سکے اور امریکی پابندیوں کو چکمہ دیا جا سکے۔

وزارت خارجہ نے مزید بتایا کہ ان اقدامات میں ایک ایرانی ایکسچینج کمپنی اور اسے چلانے والے کارندے بھی شامل ہیں، جن پر تہران کے حق میں اربوں ڈالر کے غیر قانونی مالیاتی لین دین کو آسان بنانے کا الزام ہے۔

پابندیوں کو بائی پاس کرنے کی کوشش

بیان کے مطابق ان نیٹ ورکس نے ایرانی حکام کو اس قابل بنایا کہ وہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بین الاقوامی مالیاتی نظام کی نظروں سے دور منتقل کر سکیں، جس سے انہیں اپنے اوپر عائد پابندیوں اور قدغنوں کو بائی پاس کرنے میں مدد ملی۔

امریکی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی ایک مہم کا حصہ ہے جسے "اقتصادی غیظ و غضب" کا نام دیا گیا ہے۔ اس مہم کا مقصد ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کو برقرار رکھنا اور اس کی آمدنی حاصل کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کرنا ہے، جس کے بارے میں واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ اسے ہتھیاروں کی تیاری اور خطے میں اس کے اتحادی مسلح گروپوں کی حمایت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مسلسل کارروائیاں

واشنگٹن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ان افراد، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے گا جو پابندیوں سے بچنے میں ایران کی مدد کرتے ہیں۔ امریکہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ان تدابیر پر عمل درآمد کے لیے تعاون کرے تاکہ ان مالیاتی وسائل تک رسائی کو روکا جا سکے جنہیں سکیورٹی کو نقصان پہنچانے، ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور علاقائی استحکام کو زک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

وزارت خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ پابندیاں ایگزیکٹو آرڈر نمبر 13902 کے تحت لگائی گئی ہیں، جو ایرانی مالیاتی اور پٹرولیم کے شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کو نشانہ بناتا ہے۔ بیان میں اشارہ کیا گیا کہ یہ نئے اقدامات ان پچھلی پابندیوں کا تسلسل ہیں جو ایرانی تیل کی فروخت اور اس کی آمدنی کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے "شیڈو" نیٹ ورکس کے خلاف لگائی گئی تھیں۔

یہ اہم قدم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن تہران پر اقتصادی دباؤ کو مسلسل بڑھا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ایرانی جوہری فائل کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی پسِ پردہ جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں