سیاسی وابستگیوں سے پاک سکیورٹی فورسز کی ضرورت ہے: عراقی اسلحہ کنٹرول کمیٹی

تین گروپوں نے تعاون پر آمادگی ظاہر کردی: سربراہ کمیٹی جنرل قیس المحمداوی کا ’’ العربیہ ‘‘ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

عراق میں ریاستی کنٹرول میں اسلحہ لانے والی سپریم کمیٹی کے سربراہ اور مشترکہ آپریشنز کے ڈپٹی کمانڈر جنرل قیس المحمداوی نے کہا ہے کہ صدر تحریک کے رہنما مقتدیٰ الصدر کے اقدام نے ریاست کے ہاتھ میں اسلحہ محدود کرنے کے معاملے پر حقیقی کام شروع کرنے کے لیے ایک حقیقی اور ٹھوس بنیاد فراہم کی ہے۔

انہوں نے السلام بریگیڈ (سرایا السلام) سے متعلق خصوصی اقدامات کے نفاذ کے آغاز کا انکشاف کیا۔ انہوں نے دیگر دھڑوں کو اسی راستے میں شامل کرنے کی تیاریوں کا بھی بتایا۔

جنرل قیس المحمداوی نے ہفتہ کو "العربیہ/ الحدث" کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ اسلحہ کو ریاست کے کنٹرول میں لانا حکومتی پروگرام کی نمایاں ترین شقوں میں سے ایک ہے۔ اس کا مقصد مسلح تنظیموں کے کسی بھی سیاسی یا مذہبی تعلق کو ختم کرنا اور انہیں ریاست کے سرکاری سکیورٹی اداروں سے منسلک کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مرحلے کو سیاسی وابستگیوں سے پاک سکیورٹی فورسز کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ السلام بریگیڈ کے ہتھیار ریاست کے سپرد کرنے کے حوالے سے مقتدی الصدر کی ہدایات کے بعد ان کے ساتھ عملی طور پر کام شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں وزارت دفاع، وزارت داخلہ، پاپولر موبلائزیشن فورسز اور سرایا السلام کے نمائندے شامل ہیں جو وابستگان کے ناموں کی فہرست تیار کرنے، ہتھیاروں کی درجہ بندی کرنے اور دوبارہ تنظیم نو اور انتظامی و آپریشنل الحاق کے طریقہ کار وضع کرنے کی ذمہ دار ہے۔

جنرل قیس المحمداوی نے مزید کہا کہ اس کا مقصد صرف ہتھیاروں کی فہرست بنانا یا ناموں کو تبدیل کرنا نہیں ہے بلکہ ایسی قومی سکیورٹی فورسز تک پہنچنا ہے جو مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف سے منسلک ہوں اور ریاست کے سرکاری فریم ورک کے اندر کام کریں۔

تین فریقوں کی آمادگی

ساتھ ہی جنرل قیس المحمداوی نے انکشاف کیا کہ اب تک تین فریقوں نے اسلحہ محدود کرنے کے منصوبے کے ساتھ تعاون کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے جن میں سرایا السلام، عصائب اہل الحق اور کتائب امام علی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ’’ عصائب اہل الحق‘‘ کے ارکان کے ناموں اور ہتھیاروں کی فہرست تیار کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا دیوانی حکم جاری کیا گیا ہے تاکہ انہیں سرکاری سکیورٹی ڈھانچے میں ضم کرنے کے اقدامات کو مکمل کیا جا سکے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ منصوبہ فی الحال پاپولر موبلائزیشن فورسز (الحشد الشعبی) کے اندر شامل دھڑوں تک محدود ہے۔ انہوں نے الحشد سے باہر کے دھڑوں کو ضم کرنے یا ایسے عناصر کو نئے فوجی رینک دینے کے کسی بھی منصوبے کی تردید کی جو اس ادارے سے وابستہ نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کچھ ایسے دھڑے جو الحشد کے ساتھ انتظامی تعلق رکھتے ہیں اور ساتھ ہی سیاسی یا مذہبی عنوانات بھی رکھتے ہیں، انہیں دوبارہ منظم کیا جائے گا تاکہ اس دوہرے پن کو ختم کیا جا سکے اور ان کا تعلق خاص طور پر سرکاری سکیورٹی اداروں سے ہو جائے۔

بھاری ہتھیاروں کی حوالگی

جہاں تک ہتھیاروں کا تعلق ہے، انہوں نے بتایا کہ تمام بھاری اور درمیانے درجے سے اوپر کے ہتھیار جن میں ٹینک، توپ خانہ اور مخصوص اقسام کے میزائل اور ڈرونز شامل ہیں، ایک مرکزی کمیٹی کے حوالے کیے جائیں گے جس میں وزارت دفاع، مشترکہ آپریشنز اور کمانڈر ان چیف کے دفتر کے نمائندے شامل ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وصولی کا عمل سرکاری دستاویزات کے مطابق ہوگا اور ہتھیاروں کو خصوصی گوداموں میں محفوظ کیا جائے گا تاکہ ضرورت کے مطابق انہیں فوج اور سکیورٹی فورسز میں دوبارہ تقسیم کیا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ اسلحہ محدود کرنے کے عمل کو وقت درکار ہے اور اسے مختصر مدت میں پورا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی فریق ان اقدامات کی تعمیل کرنے سے انکار کرے گا اسے قانونی جوابدہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ الحشد اتھارٹی ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کرنے والوں کے خلاف انتظامی اقدامات کرے گی۔

غیر ملکی افواج اور بین الاقوامی اتحاد

سکیورٹی کے معاملے پر جنرل المحمداوی نے عراق میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کو ختم کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھنے کی تصدیق کی۔

انہوں نے عین الاسد بیس سے امریکی افواج کے انخلاء اور انسداد دہشت گردی کے ادارے کے ہیڈ کوارٹرز سے فوجی مشیروں کی روانگی کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ طے شدہ معاہدوں کے مطابق بین الاقوامی اتحاد کی کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر ستمبر 2026 تک اربیل منتقل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے جو تربیت اور ہتھیاروں کی دیکھ بھال پر توجہ مرکوز کریں گی۔ اس کے ساتھ ہی پڑوسی ملکوں اور خلیجی ملکوں کے ساتھ بھی اسی طرح کے ممکنہ معاہدے ہوں گے۔

پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے والے گروہ

جہاں تک ڈرون حملوں کا تعلق ہے تو انہوں نے گزشتہ مدت کے دوران پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے والے حملوں سے وابستہ متعدد کارروائیوں کو ناکام بنانے اور گروہوں کو گرفتار کرنے کا انکشاف کیا۔

انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز سفارتی مشنز کو نشانہ بنانے اور سرحد پار حملوں میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے اصرار کیا کہ مشنز کی سکیورٹی "ریڈ لائن" ہے اور عراق دوسرے ملکوں کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کے لیے اپنی سرزمین کو بطور لانچ پیڈ استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرتا ہے۔

انہوں نے ایرانی اپوزیشن گروپوں کو عراقی سرزمین سے دور رکھنے کے لیے کردستان کی علاقائی حکومت اور متعلقہ سپریم کمیٹی کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انھی اقدامات میں کردستان ورکرز پارٹی کو عراق میں ممنوعہ جماعت قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا عراقی سکیورٹی کا ویژن ریاست کے ہاتھ میں اسلحہ محدود کرنے اور پیشہ ورانہ فوجی اور سکیورٹی ادارے بنانے پر مبنی ہے جو کسی بھی سیاسی یا مذہبی وابستگی سے دور رہ کر مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کے ماتحت کام کریں۔

واضح رہے حالیہ جنگ کے دوران امریکی مفادات پر ان میں سے کچھ دھڑوں کے حملوں کے پس منظر میں واشنگٹن نے عراقی تیل کی آمدنی کی نقد ادائیگیوں کو معطل کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ سکیورٹی امداد بھی روک دی گئی تھی۔

ایک امریکی اہلکار نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ واشنگٹن امداد کی بحالی سے قبل نئے وزیر اعظم علی الزیدی کی جانب سے دھڑوں کو ریاستی اداروں سے دور رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کا منتظر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size