فلسطینی شیر خوار کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاکت، فوج تحقیقات کرے گی
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجیوں کی فائرنگ سے سات ماہ کے شیر خوار فلسطینی کی اپنی ماں کی گود میں ہلاکت کے بارے میں تحقیقات شروع کرے گی۔ یہ بات اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہی ہے۔
سات ماہ کا فلسطینی شیر خوار صیم فہد ابو ہیکل کو اسرائیلی فوج نے اس وقت فائرنگ سے ہدف بنایا جب اپنے والدین کے ساتھ کار میں الخلیل شہر میں تھا۔ معصوم بچہ جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کے والدین زخمی ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا تھا۔
واقعے کے بعد اسرائیلی فوج کا وہی روایتی بیان سامنے آیا کہ کار فوجیوں کی طرف آرہی تھی ، گویا اسرائیلی فوجیوں کو ان کار سواروں سے ڈر محسوس ہوا اور فوجیوں نے خوف کے مارے گولی چلا دی۔
اگرچہ اسرائیلی حکام کو بھی ابتدائی انکوائری میں یہ معلوم ہو گیا ہے کہ کار سوار ہرگز خوفزدہ کرنے والے تھے نہ وہ ایسے لوگ تھے، وہ عام فلسطینی تھے جو اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ گاڑی میں گزر رہے تھے، کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے گاڑی پر سوار تینوں افراد زخمی ہوئے۔ تاہم والدین گولی لگنے کے باجود جان سے بچ گئے ہیں۔
اب اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات شروع کرے گی۔ فوج کے بیان کے مطابق ابتدائی نوعیت کی معلومات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تحقیقات ملٹری پولیس کرے گی۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد فوج کے جیک برانچ کو بھجوا دی جائیں گی۔
واضح رہے اسرائیل نے مغربی کنارے پر 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے اور تب سے اس علاقے میں فلسطینیوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ پچھلے اڑھائی سال کے دوران فوج نے کم از کم 1080 فلسطینیوں کو مقبوضہ مغربی کنارے میں قتل کیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران 46 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ جن میں سویلین اور فوجی دونوں شامل ہیں۔ مغربی کنارے میں یہودی آباد کار بھی فلسطینیوں کے خلاف قتل و غارتگری کا اہم ذریعہ ہیں۔