ایرانی وزارتِ خارجہ نے بتایا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے، جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہیں، خاص طور پر اس کے بعد جب اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر حملہ کیا، جس کے جواب میں ایران کی جانب سے تل ابیب کی طرف کارروائی کی گئی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری رابطہ مئی میں ہوا تھا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال، سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں پر بات چیت کی گئی تھی۔
اس گفتگو میں علاقائی پیش رفت اور کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں بھی زیرِ بحث آئیں۔سعودی عرب اپنی سرکاری بیانات میں مسلسل یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ کشیدگی میں کمی لائی جائے، تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستہ اپنایا جائے۔
ساتھ ہی وہ پاکستان کی ثالثی اور دیگر سفارتی کوششوں کی حمایت بھی کرتا ہے تاکہ خطہ مزید عدم استحکام کا شکار نہ ہو۔
دوسری جانب سعودی عرب نے متعدد بار ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور خطے میں استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔