عراق کی جانب سے اپنی سرزمین پر طیارہ گرنے کی تردید

اسرائیل پر ایرانی میزائل داغے جانے کے بعد عراق کی فضائی حدود 72 گھنٹے کے لیے بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق نے اتوار کی شام اپنی فضائی حدود کو 72 گھنٹے کے لیے بند کر دینے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام ایران کی جانب سے 8 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد پہلی بار اسرائیل کی سمت میزائل داغے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔

عراقی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک مختصر بیان میں عراقی فضائی حدود کو 72 گھنٹے کے لیے بند کرنے کی اطلاع دی۔ رواں سال 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز سے لے کر جنگ بندی کے اعلان تک، عراق کی فضاؤں میں ڈرونز اور میزائلوں کی کثرت دیکھی گئی تھی، جن میں سے کچھ نے عراقی سرزمین کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

اسی تناظر میں عراقی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ بانکین ریکانی نے اتوار کی شام عراقی سرزمین یا فضائی حدود میں کسی مسافر طیارے کے گرنے کی تردید کی۔ ریکانی نے ایک پریس بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ معلومات بے بنیاد ہیں، عراقی ہوائی اڈوں اور فضائی حدود میں فضائی نقل و حرکت کی متعلقہ حکام کی جانب سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور اس قسم کا کوئی واقعہ ریکارڈ نہیں ہوا ہے۔

عراقی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ نے میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ خبروں کی ترسیل میں احتیاط برتیں، درست معلومات کے لیے سرکاری ذرائع پر انحصار کریں اور ایسی افواہیں پھیلانے سے گریز کریں جو عوامی اضطراب اور رائے عامہ میں الجھن کا باعث بن سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ عراقی میڈیا نے اتوار کی شام عراق کے جنوب مغرب میں واقع صوبہ کربلا کے صحرا میں ایک مسافر طیارے کے گرنے کی خبر دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں