اردن، بحرین اور کویت کے اوپر فضا میں ہی میزائل تباہ کر دیئے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے اثرات خطے کے کئی ممالک تک پھیل گئے ہیں۔ اردن اور خلیجی ممالک میں میزائلوں کو فضا ہی میں روکنے کے واقعات اور ہائی الرٹ کی سطح میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں وسیع تصادم کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

العربیہ کی نامہ نگار کے مطابق اردن کے دارالحکومت عمان کی فضائی حدود میں ایرانی میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کیا گیا، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حملوں کے بعد خطے کی فضائی حدود میں دفاعی سرگرمیاں بھی دیکھی گئیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اردن کے ''الازرق'' ایئر بیس پر موجود امریکی طیاروں کو 12 بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

اسی دوران العربیہ کی نامہ نگار کے مطابق شمالی اسرائیل کے علاقوں مسغاف عام اور المطلہ میں سائرن بجائے گئے، جب لبنان کی سرزمین سے میزائل داغے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ میزائل کس نوعیت کے تھے اور انہیں کس نے فائر کیا۔یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث اسرائیل کی شمالی سرحد پر بھی ہائی الرٹ برقرار ہے اور پورے خطے میں جنگی خطرات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

بحرین میں ایک بار پھر سائرن بجائے گئے ہیں، کیونکہ خطے میں سکیورٹی کشیدگی مسلسل جاری ہے۔ منامہ نے بتایا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام دشمن اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

دوسری جانب کویت کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام بھی دشمن فضائی اہداف کا مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ کویتی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایران کی جانب سے مبینہ حملوں کے باعث ملک کی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کویتی فوج نے ان اہداف کی نوعیت یا انٹرسیپشن کے نتائج کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جبکہ بحرین کی جانب سے بھی سائرن بجنے کی وجوہات پر فوری طور پر کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی۔

تصادم کے پھیلاؤ کے خدشات

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے خطے میں امریکی اہداف اور اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جوابی کارروائیاں کی ہیں، جو ایران کے اندر امریکی حملوں کے ساتھ بیک وقت ہو رہی ہیں۔

مسلسل دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کے تبادلے کے درمیان خطے میں اس بات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کہ آنے والے گھنٹے مزید کشیدگی کا باعث بنتے ہیں یا پھر صورتحال کسی حد تک سفارتی راستے کی طرف لوٹتی ہے، اگرچہ اس وقت سفارتی عمل پہلے سے زیادہ کمزور دکھائی دے رہا ہے۔

بین الاقوامی اپیلیں

ایک علیحدہ پیش رفت میں امریکہ اور یورپی ممالک سمیت 22 ممالک نے جمعرات کے روز ایران کو مشترکہ طور پر ایک انتباہ جاری کیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر افراد کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بند کرے۔

خبر رساں ایجنسی فرانس پریس کے مطابق ان ممالک نے ایران کی سکیورٹی ایجنسیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی اور مقامی مجرمانہ گروہوں کو ''شرمناک'' انداز میں استعمال کرتے ہوئے یورپ، شمالی امریکہ اور آسٹریلیا میں منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قتل کی کوششیں، اغوا، ہراساں کرنا، دھمکیاں دینا یا کسی بھی شکل میں افراد کو نشانہ بنانا ہماری سرزمین پر قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اور یہ کارروائیاں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں۔

مہلک سازشیں

ان ممالک نے مزید کہا ہے کہ ایران کے انٹیلی جنس ادارے، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب اور اس کی قدس فورس، مخالفین، صحافیوں اور یہودی و اسرائیلی برادریوں اور مفادات کے خلاف مہلک سازشوں اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے: ہم اپنے ممالک اور عوام کو ان خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے متحد ہیں۔ ایران کو یہ کارروائیاں فوراً بند کرنی چاہئیں۔

ان ممالک نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یورپ بھر میں حملوں کی ایک مہم کے پیچھے ہے، جن کا ہدف یہودی برادریاں اور ایرانی و امریکی صحافی رہے ہیں اور جنہیں مبینہ طور پر '' اسلامی اصحابِ یمین تحریک" نامی گروہ نے انجام دیا۔

یہ نسبتاً غیر معروف گروہ حالیہ دنوں میں لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں یہودی عبادت گاہوں اور کمیونٹی مراکز پر آتش زنی کے متعدد واقعات کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے، جہاں ایک بڑی یہودی آبادی مقیم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں