جنوبی لبنان پر اسرائیل کا نیا فضائی حملہ ، جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 3700 ہو گئی

بے گھر خاندان اپنے مقتولین کو عارضی قبروں میں دفنا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنان میں جاری کشیدگی کے تسلسل میں اسرائیلی فوج نے آج جمعے کی صبح جنوبی لبنان کے علاقوں نبطیہ اور جبشیت پر فضائی حملے کیے، جبکہ فوج نے اپنے حملوں کا دائرہ کار جنوب اور ملک کے مشرقی حصے میں واقع وادیِ بقاع تک وسیع کر دیا ہے۔

صور شہر میں واقع ہیرام اسپتال کے قریب ایک فضائی حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 17 زخمی ہوئے، جن میں 10 طبی عملے کے ارکان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طیردبا، العباسیۃ اور وادیِ بقاع کے مختلف علاقوں میں بھی حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب، حزب اللہ تنظیم نے سرحد کے متعدد مقامات پر اسرائیلی گاڑیوں اور ٹینکوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

لبنانی وزارت صحت نے جنگ کے آغاز سے اب تک کے جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن کے مطابق اب تک 3711 افراد ہلاک اور 11483 زخمی ہو چکے ہیں۔

جنگ کے جاری رہنے کے باعث بے گھر ہونے والے لبنانی اپنے اہل خانہ کی میتوں کو عارضی قبروں میں دفن کرنے پر مجبور ہیں۔ حارہ صیدا کے مرکزی قبرستان کے اوپر واقع کنکری بجری سے بنے ایک چھوٹے سے بنجر میدان میں درجنوں عارضی قبریں کھودی گئی ہیں۔

قبروں کو سیمنٹ کے ٹکڑوں سے احاطہ کیا گیا ہے اور بعض پر ہاتھ سے لکھے کتبے لگائے گئے ہیں، جن پر متوفی کا نام اور تاریخِ تدفین درج ہے۔ کچھ قبریں پھولوں اور ان عام شہریوں اور حزب اللہ تنظیم کے جنگجوؤں کی تصاویر سے سجی ہیں، جو جنگ کے دوران مارے گئے اور سکیورٹی حالات کے باعث انہیں ان کے آبائی دیہاتوں میں دفن کرنا ممکن نہ ہو سکا۔

شیعہ مسلمانوں کے فقہی اصولوں کے مطابق، جب حالات کسی متوفی کو اس کی اصل جگہ دفن کرنے میں رکاوٹ بنیں تو انہیں عارضی طور پر ایک جگہ بطور امانت دفن کرنے کی اجازت ہے۔

حارہ صیدا میں اوقاف کمیٹی کے سربراہ اور قبرستان کے نگران حسن صالح کا کہنا ہے کہ یہ حصہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2023 میں شروع ہونے والی جھڑپوں کے دوران قائم کیا گیا تھا جو 2024 میں ایک کھلی جنگ میں بدل گئی تھی۔ اس کا قیام اسلامی شیعہ سپریم کونسل کی نگرانی میں عمل میں آیا۔

نومبر 2024 میں اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد بھی بہت سے خاندان اپنے پیاروں کو اسرائیل کے ساتھ متصل ان سرحدی دیہات میں دفن نہ کر سکے جو تباہ حال ہیں اور تب سے وہاں رہائشیوں کی واپسی ممکن نہیں ہو سکی۔

ایک بے گھر شخص کا کہنا ہے کہ "ہم نے بطور امانت 120 افراد کو دفن کیا، آج ہمارے پاس تقریباً 185 امانتیں موجود ہیں اور ہم اب بھی نئی قبریں کھود رہے ہیں اور اپنے مقتولین، رشتہ داروں، خواتین اور بچوں کی لاشوں کو وصول کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔"

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ یہاں موجود لوگوں میں "سول ڈیفنس کے اہل کار اور وہ نہتے افراد بھی شامل ہیں جو اپنے گھروں میں تھے۔"

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ "تدفین خاندانوں کے حساب سے کی جاتی ہے۔ جب چار یا پانچ افراد کا کوئی خاندان آتا ہے تو ہم انہیں اکٹھے دفن کرتے ہیں، ہر فرد کو ایک صندوق میں رکھا جاتا ہے اور ہر خاندان کو ایک الگ حصے میں"۔ انہوں نے کہا کہ "جو مناظر ہم دیکھ رہے ہیں وہ خوف ناک ہیں۔"

لبنان کے دیگر علاقوں میں بھی کئی عارضی قبرستان قائم ہیں، جن میں صور اور بیروت کے جنوبی مضافات کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔

امریکہ کی جانب سے اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود لبنان میں جنگ نہیں رکی، اسرائیلی فضائی حملے جنوبی لبنان پر جاری رہے اور اس کی فوج نے اس کے وسیع علاقوں پر چڑھائی کر رکھی ہے، جبکہ حزب اللہ تنظیم بھی پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی افواج پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں