دو ریاستی حل کے امکانات معدوم، اسرائیل، فلسطینی سول سوسائٹی کی فرانس میں ملاقات

فرانس کا مقصد ایران جنگ کے دوران دو ریاستی حل کا ایجنڈا برقرار رکھنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل اور فلسطینی سول سوسائٹی گروپس جمعے کو فرانس میں ملاقات کر رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی برادری پر زور دیا جائے کہ وہ دو ریاستی حل برقرار رکھے۔ پیرس شرقِ اوسط جنگ کے دوران اس مسئلے کو نظرانداز ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ اجلاس جس میں درجنوں ممالک کے وزراء خارجہ اور اعلیٰ حکام شرکت کر رہے ہیں، اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ نیویارک اعلامیے کا ایک سال مکمل ہونے پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ اعلامیے میں فلسطینی ریاست کے لیے ایک لائحہ عمل ترتیب دیا گیا اور فرانس، برطانیہ اور کینیڈا سمیت تقریباً 12 ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا۔

فرانس کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو نامہ نگاروں کو بتایا، "خطے کی موجودہ صورتِ حال جس میں بظاہر لامتناہی تنازعات، بہت زیادہ شہریی ہلاکتیں اور تشدد کا ایک چکر نمایاں ہے، اس کے پیشِ نظر اور غزہ جنگ بندی پر عمل درآمد کے تعطل کی روشنی میں ہمیں یقین ہے کہ یہ کانفرنس اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری اور فوری نوعیت کی ہے۔"

یہ اجتماع "عمل کے ایک آٹھ نکاتی تقاضے" کے ساتھ اختتام پذیر ہو گا جس میں مستقل جنگ بندی، غیر قانونی آبادیوں کو روکنے، غزہ کی تعمیرِ نو، طرزِ حکمرانی کی اصلاحات اور سول سوسائٹی کے لیے مضبوط بین الاقوامی حمایت پر زور ہو گا۔

رائٹرز کے ملاحظہ کردہ ایکشن پلان کے مطابق "خطہ شکست و ریخت کا شکار ہے۔ غزہ تباہ حال ہے، اسرائیل بدستور خطرے میں ہے۔ آبادکاروں کی دہشت گردی، آبادیوں میں توسیع اور ڈی فیکٹو الحاق اور فلسطینی اتھارٹی کو دھمکیاں مستقبل کی فلسطینی ریاست کے قابلِ عمل ہونے کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔"

نیز کہا گیا، "اسرائیلی اور فلسطینی یکساں طور پر خوف، عدم تحفظ اور صدمے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ جی سیون کا ایوین میں اجلاس ہوا، یہ تنازعہ ایک بار پھر نظرانداز ہو جانے کا خطرہ ہے۔ حل کا راستہ کھلا ہے؛ لیکن یہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔"

آبادکاروں کے تشدد پر مغرب میں غصہ

یہ کانفرنس مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے درمیان سامنے آئی ہے اور کئی مغربی ممالک کا آبادیوں کی توسیع کرنے پر وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف غصہ نمایاں ہوا ہے۔

سفارت کاروں کے خیال میں توسیع کا مقصد فلسطینی ریاست کے امکانات کو کمزور کرنا ہے۔

برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور ناروے نے منگل کے روز اسرائیلی نیٹ ورکس کے خلاف نئی مربوط پابندیوں کا اعلان کیا جو اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کی مالی معاونت، اسے ممکن بنانے اور انجام دینے میں ملوث ہیں۔

اسرائیل اور امریکہ نے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔

اسرائیلی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا، "سفیر کو مدعو کیا گیا تھا لیکن وہ کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے کیونکہ اس کا امن کو فروغ دینے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

نیز کہا، "فرانس اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ثالث کے طور پر کام نہیں کر سکتا۔ دو ریاستی حل کے حوالے سے سفیر نے یاد دلایا کہ فلسطینیوں نے پانچ مواقع پر فلسطینی ریاست کے قیام کی تجاویز کو مسترد کیا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں