امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعے کو ایران سے ممکنہ معاہدے سے متعلق حالیہ اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو "صرف معاہدے پر دستخط کرنے یا اجلاس میں شرکت کے لیے" کوئی نقد رقم نہیں ملے گی اور نہ ہی کوئی فنڈ جاری کیا جائے گا"۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں وینس نے کہا کہ معاہدہ اس انداز سے بنایا گیا تھا کہ اگر ایران "اپنی ذمہ داریاں" پوری کرے تو اسے اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔
نائب صدر نے ریپبلکن قانون سازوں اور مبصرین پر تنقید کرنے والوں پر بھی جوابی وار کیا جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدے کی کوشش پر عوامی سطح پر تنقید کی ہے۔
"جن لوگوں نے ایک ماہ قبل (بجا طور پر) ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک تاریخ ساز صدر قرار دیا تھا، وہ اب غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر معاہدے پر تنقید کر رہے ہیں،" وینس نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا، "صدر ہمیں کسی نہ کسی طریقے سے ایک بہتر نتیجہ دینے جا رہے ہیں۔"
دریں اثناء ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے العربیہ کو وہ تفصیلات بتائیں جن پر ایران نے اتفاق کیا ہے:
جوہری مواد کو تباہ کر کے ہٹا دیا جائے گا
ایٹمی پروگرام ختم کر دیا جائے گا
ایران کا کوئی بھی پیسہ اس وقت تک جاری نہیں ہو گا، جب تک وہ کام نہ کرے
آبنائے ہرمز کھلا رہے گا
ایران دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت نہیں کرے
اہلکار نے کہا "یہ وہی ہے جس پر انہوں نے اتفاق کیا ہے۔ یہ کارکردگی پر مبنی معاہدہ ہے،"۔