انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزراء کی امریکہ-ایران معاہدے پر تنقید

"ہم اس معاہدے کے پابند اور فریق نہیں ہیں": اتمار بین گویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کے دو انتہائی دائیں بازو کے وزراء نے پیر کے روز امریکہ-ایران معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک اس کا پابند نہیں ہے۔

"ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا۔۔ ہم اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں۔ یہ ہماری سلامتی کا تحفظ نہیں کرتا،" وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بین گویر نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر کہا جو اس معاہدے پر ایک اسرائیلی اہلکار کی طرف سے پہلا ردِ عمل ہے۔

انہوں نے کہا، "ہمیں حزب اللہ کے خاتمے سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اس علاقے کے ایک انچ سے بھی دستبردار نہیں ہونا چاہیے جس پر ہمارے فوجیوں نے قبضہ کر کے دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے سے پاک کر دیا ہے۔"

وزیرِ خزانہ بیزلل سموٹریچ نے بھی انہی جذبات کی بازگشت کرتے ہوئے اس معاہدے کو "اسرائیل کے لیے برا" قرار دیا۔

انہوں نے کہا، "مشترکہ (امریکہ-اسرائیل) مہم نے ایران کو کمزور کرنے میں کئی کامیابیاں حاصل کیں اور ان سے ہمارے مقاصد حاصل ہوئے۔"

نیز کہا، "تخلیقی ذرائع استعمال کرتے ہوئے ہمیں خود (ایرانی) حکومت گرانے کی مہم جاری رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔"

سموٹریچ نے لبنان میں ایک مضبوط تر فوجی مہم چلانے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا، ہمارا فیصلہ لبنان میں ہو گا۔ یہ ہماری جنگ ہے، ہمارے فوجیوں اور ہمارے شمالی باشندوں کی فوری حفاظت کا معاملہ ہے۔"

نیز کہا، "میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام جاری رکھوں گا کہ ہم اپنے مؤقف پر قائم رہیں اور حزب اللہ کو مزید دور دھکیلنے کے لیے فوج کو کارروائی کی مکمل آزادی دیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں