ایران اور امریکہ کے معاہدے پر دستخط جمعے کو بورگن اشتوک میں ہوں گے : سوئٹزرلینڈ

یہ تقریب وسطی سوئٹزرلینڈ میں جھیل لوسرن کے اوپر واقع ایک پُر تعیش ہوٹل میں منعقد ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سوئس حکومت نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے پر دستخط جمعہ کے روز وسطی سوئٹزرلینڈ کے علاقے بورگن اشتوک میں ممکن ہیں۔

سوئس وزارت خارجہ نے آج منگل کے روز اپنے بیان میں ذکر کیا کہ وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے امکان کے حوالے سے امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

وزارت نے مزید کہا کہ اس مرحلے پر معاہدے پر دستخط 19 جون بروز جمعہ بورگن اشتوک ، کینٹن نیدوالدن میں طے پائے ہیں۔ اس مقام کی تجویز پاکستانی اور قطری ثالثوں کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ایران نے دی ہے۔

یہ تقریب بورگن اشتوک پہاڑ پر واقع ایک پرُ تعیش ہوٹل میں منعقد ہو گی جو وسطی سوئٹزرلینڈ میں جھیل لوسرن کے اوپر واقع ہے۔

سوئس وزارت خارجہ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقام پہنچنے کے لحاظ سے مشکل ہے، جس کی وجہ سے یہاں سکیورٹی فراہم کرنا آسان ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ فی الحال طے شدہ تقریب کی تفصیلات اور کارروائی کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔
دوسری جانب نیوز ویب سائٹ 'شفائز ہوٹ' نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ تقریب کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور ریزورٹ کے تمام ہوٹل اتوار تک بک ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ بورگن اشتوک ہوٹل کمپلیکس نے جون 2024 میں یوکرین میں امن کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس کی میزبانی کی تھی جس میں یوکرینی صدر ولودو میر زیلینسکی نے بھی شرکت کی تھی۔

ایک امریکی عہدے دار نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے الیکٹرونک طور پر دستخط کر دیے ہیں۔

تہران نے بتایا کہ وینس اور قالیباف سوئٹزرلینڈ میں اپنے ممالک کے وفود کی قیادت کریں گے۔

وینس نے سی این این کو وضاحت دی کہ یہ دستاویز "ڈیڑھ صفحے" پر مشتمل ہے اور اس میں زیادہ تر عمومی نوعیت کی باتیں شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ٹرمپ تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں۔ امریکی صدر فی الحال فرانسیسی شہر ایویان میں گروپ سات کے سربراہی اجلاس میں شریک ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں